 |
|
دینی مدرسہ |
پاکستان کے سیاسی اتار چڑھاؤ، خود کش بم دھماکے اور مدارس بین لاقوامی فورموں پر اکثر بحث کا موضوع بنتے ہیں۔ تمام تر ملکی اور بین لاقوامی دباؤ کے باوجود پاکستان میں موجودہ دہائی کے دوران دینی مدرسوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور پاکستان کے بارے میں یہ تاثر عام پایا جاتا ہے کہ بالعوم والدین دینی تعلیم کو عام اسکولوں کی تعلیم پر فوقیت دیتے ہیں۔ تاہم ورلڈ بنک کی 2006 کی تحقیق کے مطابق گزشتہ کچھ برسوں میں کم آمدنی والے طبقے میں بچوں کو پرائیوٹ سکولوں میں بھیجنے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔
لندن یونیورسٹی کے مسٹر نیلسن کا کہنا تھا کہ پاکستان میں میں نے جو تحقیق کی تھی اس سے یہ پتہ چلا کہ یہ تاثر مکمل طورپر صحیح نہیں ہے کہ دینی تعلیم میں اضافہ ہورہا ہے۔ زیادہ تر خاندان اپنے پچوں کے لئے ایک طرح کی تعلیم کا انتخاب نہیں کرتے ہیں۔ بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے انگریزی اور مذہبی تعلیم دونوں حاصل کریں اور ورلڈ بنک کی ایک تحقیق میں بھی یہی بتایا گیا ہے۔
پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں تبدیلیوں کے حوالے سے ماہرین کا کہنا تھا کہ جہاں2001 میں صدر مشرف کی جانب سے نظام کو بہتر کرنے کے لئے مقامی حکومتوں کا آرڈی ننس منظور کیا گیا وہیں مذہبی جماعتوں میں اندرونی اختلافات بھی دیکھنے میں آئے۔
فرحانہ علی کا کہنا ہے گیارہ ستمبر کے بعد پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کے اہم اتحادی کے طور پر سامنے آیا لیکن اب ہواکا رخ تبدیل ہو رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے نزدیک نئی حکومت کے قیام کے بعد پاکستان نے جمہوریت کی طرف ایک قدم بڑھایا ہے اور یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ پاکستان کے اندرونی معاملات سمیت دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں موجودہ حکومت کیا فیصلے کرتی ہے۔