امریکی حکومت نے حال ہی میں تیل کی بڑی کمپنیوں سے اس بارے میں پوچھ گچھ کی ہے کہ وہ غیرمعمولی منافع حاصل کرنے کے باوجود ٹیکس میں اربوں ڈالرز کی چھوٹ کیوں مانگ رہے ہیں۔
ایک ایسے وقت میں جب کہ پیٹرول کی قیمت سو ڈالر فی بیرل سے بڑھ چکی ہے اور امریکی عوام پہلی بار پیٹرول کی اتنی زیادہ قیمت دے رہے ہیں، آئل انڈسٹری کو امریکی کانگریس کی جانب سے ایکبار پھر تنقید کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ امریکہ کی پانچ بڑی آئل کمپنیوں کے عہدیداروں نے کانگریس کی ایک کمیٹی کے سامنے یہ تصدیق کی گزشتہ سال ان تمام کمپنیوں کا کل منافع ایک ارب بیس کروڑ ڈالرز تھا۔
کانگریس کمیٹی کے چیئرمین ایڈورڈ نے اس پر آئل کمپنیوں کے مالکان کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ گزشہ دس سالوں سے ٹیکس میں ملنے والی اٹھارہ بلین ڈالرز کی چھوٹ کو ختم کرنے پر احتجاج کیوں کررہے ہیں۔ اس تنقید کا زیادہ نشانہ ایکسان موبل کمپنی بنی جو یہ دعویٰ کرتی ہے کہ اس نے اپنا آدھا منافع توانائی کے متبادل ذرائع کے تلاش کی تحقیق پر خرچ کیا ہے۔
کچھ قانونی ماہرین چاہتے ہیں کہ آئل کمپنیوں کو ٹیکس میں دی جانے والی چھوٹ کو واپس لیا جائے تاکہ اس رقم سے متبادل توانائی کے منصوبوں میں معاونت ہوسکے۔ لیکن کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ مقامی طور پر تیل کی پیداوار کی حوصلہ افزائی کے لئے ٹیکسوں میں چھوٹ ضروری ہے۔ شیل کے صدر کا کہنا ہے کہ مراعات نہ ہونے کی وجہ سے توانائی کے ذرائع کی تلاش میں مشکل کا سامنا ہورہا ہے۔
پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ اس کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ صرف امریکہ میں ہر سیکنڈ میں تین لاکھ اسی ہزار لیٹر پیٹرول استمال کیا جاتا ہے۔