Urdu TV ▪ خبروں سے آگے 
اردو ٹی وی

صرف متن
Search

دینی مدارس کا دہشت گردی میں کوئی کردار نہیں ہے


April 15, 2008
اس رپورٹ کی ویڈیو - Download this file (Real) video clip
اس رپورٹ کی ویڈیو - Watch (Real) video clip

دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کے اس دور میں مدارس کے تعلیمی نظام کے حوالے سے کئی طرح کے تحفظات کا اظہار کیا جاتا ہے مگر تاریخ دان اور،دی لاسٹ مغل، نامی کتاب کے مصنف ولیم ڈیل رمپل کا کہنا ہے کہ گیارہ ستمبر کی دہشت گردی میں ملوث کوئی ہائی جیکر کسی مدرسے کا تعلیم یافتہ نہیں تھا اور اگر مدارس کو مثبت تعلیمی ذریعے کے طور پر استعمال کیا جائے تو یہ پاکستان کے تعلیمی نظام کی کمزوری کے بجائے مضبوطی کا باعث بن سکتے ہیں۔

وائس آف امریکہ اردو ٹی وی کو ایک انٹر ویو میں ولئم ڈیل رمپل کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ہندوستان کے موجودہ مدارس کا سلسلہ مغلیہ دور کے اس مدرسہ سسٹم سے ملتا ہے جس میں فارسی اور عربی زبانوں میں پڑھائے جانے والے نصاب کے معیارپر مغربی تعلیمی اداروں نے اپنے جدید علوم کی بنیادیں استوار کیں اور مدارس کے موجودہ نظام کی اصلاح آسانی سے ممکن ہے۔

ولیم کے بقول اس چیز کو سمجھنا بے حد اہم ہے کہ بارہویں اور تیرہویں صدی کی ابتدائی مغربی یونیورسٹیاں اسی طرز پر بنائی گئی تھیں جس طرز پر اسلامک اسپین اور اسلامک سسلی کے مدارس تشکیل دیئے گئے تھے۔اس دور کے ابتدائی مغربی کالجز کا طرز تعمیر تک مدارس کی طرز کا تھا اوران کے نصاب میں بھی وہی چیزیں شامل تھیں یعنی گرائمر،استدلال اور منطق۔جس کا سلسلہ دنیا کی پہلی یونیورسٹی الاظہر تک پہنچتا ہے جو قاہرہ میں تھی۔تو ضروری نہیں کہ مدارس ہی برے ہوں۔

ولیم ڈیل رمپل کا کہنا تھا کہ مدارس اب ویسی تعلیم نہیں دے رہے جو دی جا سکتی ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کا کوئی مجرم کسی دینی مدرسے کا تعلیم یافتہ نہیں تھا، ثابت کرتی ہے کہ دہشت گردی کا براہ راست دینی مدارس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مدارس پاکستان کے تعلیمی نظام کے لئے بہت مثبت طاقت ثابت ہو سکتے ہیں بشرطیکہ ان کے نصاب کو جدید علوم سے ہم آہنگ کیا جائے اوروہ تشدد اور فرقہ واریت پر اکسانے والا نہ ہو۔

ولیم ڈیل رمپل کایہ بھی کہنا تھا کہ اگر امریکہ مشرق وسطی اور جنوبی ایشیا کے عوام کے قریب جانا چاہتا ہے تو اسے جمہوریت اور نیو لبرلزم کی امریکی تعریف ان پر مسلط کرنے کے بجائےان کے دل جیتنے کے زیادہ متاثر کن طریقے ڈھونڈنے ہونگے۔

emailme.gif اس صفحے کو ای میل کیجیے
printerfriendly.gif قابل چھپائی صفحہ

  اہم ترین خبر

  مزید خبریں