 |
|
پروفیسر اکبر احمد |
واشنگٹن میں امریکن یونیورسٹی کے سکول آف کمیونیکیشن نے میڈیا اور اسلام کے نام سے ایک مذاکرے ک ااہتمام کیا جس میں میڈیا کے ذریعے مغرب اور مسلم دنیا کی طرف سے ایک دوسرے پر تنقید کیے جانے پر بحث کی گئی۔
مذاکرے کے شرکا میں مصنف، سکالر اور برطانیہ میں پاکستان کے سابق سفیر اکبر احمد، سی این این سے تعلق رکھنے والے صحافی اور تجزیہ کار پیٹر برگن، مشرقی امور کے لیے امریکی محمکمہ خارجہ کی سابق نائب وزیرِ خارجہ لز چینی اور واشنگٹن میں الجزیرہ کے بیورو چیف عبدالرحیم فوکارا شامل تھے۔
پروفیسر اکبر احمد نے کہا کہ مغربی میڈیا نے دہشت گردی کا لفظ اسلام کے ساتھ جوڑ دیا ہے اور وہ جس طرح سے مسلم دنیا کے بارے میں بات کرتے ہیں وہ انتہائی غیراخلاقی ہے۔
اکبر احمد نے یہ بھی کہا کہ مغرب 11 ستمبر 2001 کے حملوں میں ملوث 19 دہشت گردوں کو سامنے رکھ کر پوری مسلم دنیا کے بارے میں اندازہ لگاتے ہیں اور یہ رویہ اختلافات کو بڑھانے میں کارگر ثابت ہوا ہے نہ کہ گھٹانے میں۔
سابق نائب وزیرِ خارجہ برائے مشرقی امور لز چینی نے کہا کہ نہ صرف الجزیرہ بلکہ مسلم دنیا کے دوسرے بہت سے چینلز امریکہ کی غلط تصویر پیش کرتے ہیں۔ مگر وہاں کے ناظرین یہ بات جانتے ہیں کہ انہیں کسی بھی خبرکی مختلف ذرائع سے تصدیق کرنی چاہیے۔
ماہرین کا کہنا تھا کہ مغرب اور اسلامی معاشرے کے درمیان اختلافات ختم کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ دونوں طرف کا میڈیا ایک دوسرے کے مذہب، عقائد اور روایات کا احترام کرے۔