معاون وزیر خارجہ برائے جنوبی ایشیاء نے واشنگٹن میں انٹرنیشنل پریس کلب میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امن و ترقی کا خواہاں ہے۔
معاون وزیر خارجہ برائے جنوبی ایشیاءرچرڈ باؤچرنے کہا کہ پاکستان میں ہونے والے حالیہ انتخابات جمہوریت کی طرف ایک کامیاب قدم ہےاور حکومت اور اس کی تمام اتحادی جماعتوں کا اب ایک ہی مشن ہے کہ پاکستان میں انتہاپسندی سے نمٹنے کے لئے ایک اعتدال پسند معاشرے کا قیام عمل میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت سب یہ کوشش کررہے ہیں کہ پاکستان میں اعتدال پسندی کو فروغ دے کر انتہا پسندی سے نمٹا جائے جو پاکستان سمیت پٹروسی ممالک میں پھیلتی جارہی ہے۔
پاکستان میں انتہا پسندی سے نمٹنے کے لئے پاکستانی حکومت کے قبائلی عمائدین اور مقامی طالبان سے مذکرات کے بارے میں امریکی خدشات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے رچرڈ باؤچر کا کہنا تھا کہ ماضی کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ اس قسم کے سمجھوتے کارگر ثابت نہیں ہوتے۔
انہوں نے کہا کہ قبائلیوں سے مذکرات کرنا اس علاقے میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ماضی میں جائیں تو برطانوی حکومتوں سمیت مشرف حکومت نے ان سے مذاکرات کئے۔ صوفی محمد کی رہائی بھی انھیں مذاکرات کے نتیجے میں آئی ہے۔ امن و امان کے لئے حکومت کا قبائلیوں کو اپنے ساتھ ملانا یا ان کو اپنے حق میں کرنا ضروری ہے۔ لیکن عموماًہوتا یہ ہے کہ ڈیل یا مذاکرات تو ہو جاتے ہیں لیکن ان کا نفاذ نہیں ہوپاتا۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ حکومت یہ یقینی بنائے کہ ان مذاکرات کے مثبت اور دور رس نتائج سامنے آئیں۔
معاون وزیر خارجہ برائے جنوبی ایشیاء رچرڈ باؤچر نے کہا کہ امید افزاء بات یہ ہے کہ پاکستانی حکومت اب یہ مان رہی ہے کہ یہ ان کی جنگ ہے اور انتہا پسندی سے نمٹنے کے لئے وہ لوگوں کوتعلیم اور کاروبار کے مواقع فراہم کرے گی اور پاکستان میں اعتدال پسندی کے فروغ اور استحکام کے قیام کے لئے امریکہ اپنا ہر ممکن کردار ادا کرے گا۔
رچرڈ باؤچر نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں عمائدین سے مذاکرات ، وہاں قیام امن اور معاشی استحکام جیسے امور کے حوالے سے ہم پاکستانی حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں۔