 |
|
افغانستان میں روز مرہ خوراک کی امداد |
دنیا بھر میں خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث امریکہ کی امدادی ایجنسیوں کو فنڈز کی کمی کاسامنا ہے جس کی وجہ سےوہ غریب ممالک کو دی جانے والی خوراک کی امداد میں کمی پر غور کررہی ہیں۔
یوایس اے آئی ڈی کے مطابق صرف گزشتہ چھ ماہ کے دوران عالمی سطح پر گندم ، مکئی، چاول اور دیگر اناج کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے ادارے کو اپنے بجٹ میں بارہ کروڑ ڈالرز کی کمی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اورموجودہ بحران کے باعث ادارہ اپنے ہنگامی پروگراموں میں کمی لانے پر مجبور ہورہا ہے۔ موجودہ حالات کے تناظر میں خدشہ ہے کہ اس سال کے آخر تک یہ کمی بیس کروڑ ڈالرز تک پہنچ جائے گی۔
انٹرنیشنل فوڈ پالیسی ریسرچ انسیٹیوٹ میں ریسرچ فیلو مارک کوہن کے مطابق دنیا بھر میں کھانے کے علاوہ مکئی کا ایندھن کے طور پر استمال بھی کھانے کی بٹرھتی ہوئی قیمتوں میں اضافے کا باعث بنا ہے۔
دنیا بھر میں زور مرہ کھانے کی اشیاء، بالخصوص مکئی سے تیار ہونے والے ایندھن کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے اورکئی وہ اجناس جو پہلے انسانوں اور جانوروں کی خوراک کے لیے استعمال کی جاتی تھیں ، اب انہیں ایندھن کے طورپر استعمال کیا جارہا ہے۔ جس کی وجہ سے شمالی امریکہ سمیت کئی ترقی پذیر ممالک میں کاشت کار زیادہ منافع کے حصول کے لیے دوسری غذائی فصلوں کے بجائے اب مکئی کی کاشت کررہے ہیں۔
خوراک کے حالیہ بحران کے اثرات اقوام متحدہ پر بھی ہوئے ہیں اور حالیہ مہینے میں اقوام متحدہ کی جانب سے اس بات کا اعلان کیا گیا ہے کہ خوراک اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث ادارے کو بجٹ میں تقریبا پچاس کروڑ ڈالرزکی کمی کا سامنا ہے۔ اور نئے فنڈز نہ ملنے کی صورت میں ادارہ اپنی امداد میں کٹوتی کرے گا۔
افغانستان میں روز مرہ خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث حال ہی میں سات کروڑ ستر لاکھ ڈالرز کی مزید امداد کی اپیل کی گئی۔ مارک کوہن کا کہنا ہے کہ مستقبل قریب میں خوراک کی قیمتوں میں کمی کے امکانات کم ہی ہیں۔ ان کے خیال میں افغانستان اور پاکستان جیسے ممالک میں خوراک کی ضروریات کو مقامی طور پر پورا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ وہاں زرعی صنعت کو ترقی دی جائے۔
واضح رہے کہ یوایس اے آئی ڈی کی امدادی سرگرمیوں کے لیے چالیس فی صد فنڈز اس پروگرام کے شراکت دار فراہم کرتے ہیں جبکہ باقی ماندہ رقوم امریکہ کی جانب سے دی جاتی ہیں۔ دنیا بھر میں خوراک کی کمی اور بھوک و افلاس کے شکار اسی کروڑ افراد کی خوراک کی آدھی ضروریات امریکہ کی امداد سے پوری کی جاتی ہیں۔