Urdu TV ▪ خبروں سے آگے 
اردو ٹی وی

صرف متن
Search

خوراک کی قیمتوں میں اضافے کے باعث امدادی اداروں کو فنڈز کی کمی کاسامنا


April 25, 2008
اس رپورٹ کی ویڈیو - ڈاؤن لوڈ کیجیئے (Real) video clip
اس رپورٹ کی ویڈیو - Watch (Real) video clip

Food Aid in Afghanistan

افغانستان میں روز مرہ خوراک کی امداد

دنیا بھر میں خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث امریکہ کی امدادی ایجنسیوں کو فنڈز کی کمی کاسامنا ہے جس کی وجہ سےوہ غریب ممالک کو دی جانے والی خوراک کی امداد میں کمی پر غور کررہی ہیں۔

یوایس اے آئی ڈی کے مطابق صرف گزشتہ چھ ماہ کے دوران عالمی سطح پر گندم ، مکئی، چاول اور دیگر اناج کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے ادارے کو اپنے بجٹ میں بارہ کروڑ ڈالرز کی کمی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اورموجودہ بحران کے باعث ادارہ اپنے ہنگامی پروگراموں میں کمی لانے پر مجبور ہورہا ہے۔ موجودہ حالات کے تناظر میں خدشہ ہے کہ اس سال کے آخر تک یہ کمی بیس کروڑ ڈالرز تک پہنچ جائے گی۔

انٹرنیشنل فوڈ پالیسی ریسرچ انسیٹیوٹ میں ریسرچ فیلو مارک کوہن کے مطابق دنیا بھر میں کھانے کے علاوہ مکئی کا ایندھن کے طور پر استمال بھی کھانے کی بٹرھتی ہوئی قیمتوں میں اضافے کا باعث بنا ہے۔

دنیا بھر میں زور مرہ کھانے کی اشیاء، بالخصوص مکئی سے تیار ہونے والے ایندھن کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے اورکئی وہ اجناس جو پہلے انسانوں اور جانوروں کی خوراک کے لیے استعمال کی جاتی تھیں ، اب انہیں ایندھن کے طورپر استعمال کیا جارہا ہے۔ جس کی وجہ سے شمالی امریکہ سمیت کئی ترقی پذیر ممالک میں کاشت کار زیادہ منافع کے حصول کے لیے دوسری غذائی فصلوں کے بجائے اب مکئی کی کاشت کررہے ہیں۔

خوراک کے حالیہ بحران کے اثرات اقوام متحدہ پر بھی ہوئے ہیں اور حالیہ مہینے میں اقوام متحدہ کی جانب سے اس بات کا اعلان کیا گیا ہے کہ خوراک اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث ادارے کو بجٹ میں تقریبا پچاس کروڑ ڈالرزکی کمی کا سامنا ہے۔ اور نئے فنڈز نہ ملنے کی صورت میں ادارہ اپنی امداد میں کٹوتی کرے گا۔

افغانستان میں روز مرہ خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث حال ہی میں سات کروڑ ستر لاکھ ڈالرز کی مزید امداد کی اپیل کی گئی۔ مارک کوہن کا کہنا ہے کہ مستقبل قریب میں خوراک کی قیمتوں میں کمی کے امکانات کم ہی ہیں۔ ان کے خیال میں افغانستان اور پاکستان جیسے ممالک میں خوراک کی ضروریات کو مقامی طور پر پورا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ وہاں زرعی صنعت کو ترقی دی جائے۔

واضح رہے کہ یوایس اے آئی ڈی کی امدادی سرگرمیوں کے لیے چالیس فی صد فنڈز اس پروگرام کے شراکت دار فراہم کرتے ہیں جبکہ باقی ماندہ رقوم امریکہ کی جانب سے دی جاتی ہیں۔ دنیا بھر میں خوراک کی کمی اور بھوک و افلاس کے شکار اسی کروڑ افراد کی خوراک کی آدھی ضروریات امریکہ کی امداد سے پوری کی جاتی ہیں۔

emailme.gif اس صفحے کو ای میل کیجیے
printerfriendly.gif قابل چھپائی صفحہ

  اہم ترین خبر

  مزید خبریں
مسلمانوں کا امریکہ: ’امریکی صوفیائے کرام‘ پہلی قسط، دوسرا حصہ
بل کلنٹن کی طرف سے اوباما کی حمایت
20 جولائی کو یومِ عدلیہ منانے کا اعلان
ہنگو میں لڑائی جاری ہے
پاکستانی فلم ’ذبح خانہ‘کی بھارت میں نمائش
نیلسن منڈیلا 90 برس کے ہوگئے
کے رائن امریکہ کی نئی ملک الشعرا
جوہری مذاکرات میں امریکہ کی شرکت مثبت اقدام ہے: ایران
سوڈان چاڈ کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی پر رضامند ہوگیا
آسٹریلیوی فضائی کمپنی کینٹس نے عملے میں ڈیڑھ ہزار کی کٹوتی کردی
برما نے  آسیان کا جمہوریت اور انسانی حقوق کا چارٹر منظور کر لیا
کوسوو کے صدر اور وزیر اعظم پیر کو صدر بش سے ملاقات کریں گے
صومالیہ میں عالمی ادارہٴ خوراک کا ایک اور کارکن ہلاک
کینیا کا سب سے رشوت خور ادارہ پولیس ہے: ٹرانس پرنسی انٹرنیشنل
اوباما کے دورے پرمیک کین کی جانب سے ستائش اور نکتہ چینی
Muslims’ America – American Sufis: Episode 1, Part 2
پاکستانی ہاکی ٹیم کے ڈوپ ٹیسٹ نہیں ہوں گے:سیکریٹری ہاکی فیڈریشن
احمد فراز کے انتقال کی خبر غلط ہے: قریبی ساتھی
ہنگومیں مبینہ طالبان جنگجوؤں کے خلاف کارروائی جاری
PCB کی جانب سے ورلڈاینٹی ڈوپنگ کوڈ کی خلاف ورزی
کینسر کے علاج میں پیش رفت