گذشتہ کچھ عرصے سے دنیا کے اکثر ملکوں میں خوراک کی قلت میں اضافہ ہورہا ہے۔ کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق کئی ملکوں میں اکثر خاندان اپنی کل آمدنی تین چوتھائی سے زیادہ اپنی خوراک پر خرچ کررہے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں لوگوں کو روٹی کے حصول میں دشوار ی کا سامنا ہے۔ بنگلہ دیش میں حکومت نے چاولوں کی قلت کے باعث لوگوں کو آلو کھانے کا مشورہ دیا ہے۔ خوراک کی کمی اور مہنگائی کے خلاف کئی ملکوں میں مظاہرے اور لوٹ مار کے واقعات ہورہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خوراک کی قلت کی ایک بڑی وجہ بائیو ایندھن ہے۔
امریکہ کچھ عرصے سے ایسی فصلیں اگانے پر زور دے رہا ہے جن سے بائیو ایندھن تیار کیا جاسکے۔ اس سلسلے میں کاشت کاروں کو مراعات دی جارہی ہیں۔ امریکہ اور کئی دوسرے ملکوں میں کاشت کار اب غذائی اجناس کی بجائے بائیو ایندھن کے لیے فصلیں اگا رہے ہیں۔
خوراک کے عالمی ادارے کا کہنا ہے خوراک کی کمی کی ایک اور وجہ موسمی حالات بھی ہیں۔ آسٹریلیا میں خشک سالی کی وجہ سے گندم کی پیداوار میں شدید کمی ہوئی ہے۔ اسی طرح ویت نام اور بھارت نے بھی چاول کی فصل خراب ہونے کے باعث اس کی برآمد روک دی ہے۔
خوراک کے عالمی ادارے کے گریگ بیرواس صورت حال کا تجزیہ کرتے ہوئے کہتے ہیںاس مسئلے کی وجہ تیل اور کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ اور چین اور بھارت کی معاشی ترقی ہے۔اس مسئلے کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ جن زمینوں پر پہلے غذائی اجناس اگائی جاتی تھیں، اب وہاں بائیو ایندھن کی فصلیں کاشت کی جارہی ہیں۔
زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکی حکومت بائیو ایندھن کی فصلیں زیادہ اگانے کے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے تو اس سے خوراک کی قیمتوں میں کمی لائی جاسکتی ہے۔مگر انٹرنیشنل فوڈ پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے نکولس مناٹ کا کہنا ہے کہ خوراک کی قلت کی ذمہ داری ڈالر کی گرتی ہوئی قیمت پر بھی عائد ہوتی ہے۔ ان کا کہناتھا کہ اس قلت کی کئی وجوہات ہیں۔ مثلاً آسٹریلیاء میں خشک سالی کے باعث گندم کی پیداوارمیں کمی ہوئی اور عالمی مارکیٹ میں ایکسپورٹرز میں قیمتوں میں اضافے کی خاطر اپنی برآمدات محدود کردیں۔ یوکرین نے اپنی گندم کی ایکسپورٹ اور ویت نام اور بھارت نے چاول کی برآمد پر پابندی لگا دی ہے۔ ان سب عوامل نے مل کر عالمی منڈی میں غذائی اجناس کی قلت پیدا کردی ہے۔
ماہرین کو خدشہ ہے کہ خوراک کے موجودہ بحران سے ساڑھے آٹھ کروڑ افراد بھوک کا شکار ہوسکتے ہیں۔ عالمی ادارہ خوراک کی ڈائریکٹر جوسٹے شیرن کا کہنا ہے کہ دنیا کی بے بسی میں اضافہ ہورہا ہے اورسرحدوں کی قید سے آزاد سونامی طرز کا ایک خاموش طوفان اٹھ رہا ہے۔کسی کو خبر نہیں کہ وہ کس تباہی کا نشانہ بننے جارہے ہیں۔
خوراک کے عالمی ادارے نےخوراک کے امدادی پروگرام کے لیے فوری طور پر 75 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی اپیل کی ہے۔ ادارے نے عالمی راہنماؤں سے یہ بھی اپیل کی ہے کہ وہ زیادہ اجناس اگانے کے لیے ترقی پذیر ملکوں میں کاشت کاروں کی مدد کریں۔ مناٹ کا کہنا ہے کہ اگر عالمی برداری نے فوری اقدامات نہ کیے تو تباہ کن نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قیمتوں میں اضافہ جاری رہ سکتا ہے۔ اوراگر امدادی بحٹ کو نہ بڑھایا گیا تو ہمیں قحط کی سی صورت حال کا سامنا ہوسکتا ہے۔
گندم کی نئی فصل کی آمد کی وجہ سے اس کی قیمتوں میں قدرے کمی دکھائی دے رہی ہے مگر چاول کی قیمت ، جو دنیا کی نصف آبادی کی بنیادی غذا ہے، پچھلے سال کی نسبت دگنی ہوچکی ہے۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ مجموعی طورپر پچھلے تین برسوں میں خوراک کی قیمتوں میں 80 فی صد سے زیادہ اضافہ ہوچکاہے جسے روکنے کے لیے سنجیدہ اور فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔