ہیروں اور انہیں پہننے کا شوق رکھنے والی خواتین دونوں ہی جیولرز اور فیشن ہاؤسز پر کئی نسلوں سے اثر انداز ہورہی ہیں۔ بلجیم کے اینٹرپ ورلڈ ڈائمنڈ سینٹر بھی اسی نظریے پر یقین رکھتا ہے کہ انہیں اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے اقدامات کرتا رہتا ہے۔ اینٹرپ وہ ادارہ ہے جہاں دنیا کے 80 فی صد غیر تراشیدہ ہیروں کی خرید وفروخت ہوتی ہے۔ حال ہی میں اس سینٹر نے امراء، شاہی خاندان کے افراد اور ہالی وڈ کے ستاروں کے زیر استعمال رہنے والے ہیروں سے جڑے 76 زیورات کی نمائش کا اہتمام کیا۔
فرانس کے بادشاہ چارلس ہفتم کی محبوبہ اگنس تاریخ میں پہلی بار شاہی دربار میں ہیرے پہن کرآئی تو اس پر ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ پندرھویں صدی سے پہلے ہیرے صرف بادشاہ ہی پہنا کرتے تھے۔ اگنس نے پہلی بار ہیرے پہنے کی جو رسم ڈالی تھی، اسے بڑا فروغ ملا اور تب سے امیر اور صاحب ثروت خواتین ہیرے پہنتی اور فیشن پر اثر انداز ہوتی آ رہی ہیں اینٹرپ میں ہونے والی اس نمائش میں ان خواتین کے 76 مقبول ترین زیورات کے ذریعے سے ان کی تاریخ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
نمائش میں رکھے جانے والے زیورات میں آسٹریا کی ملکہ سیسی کے استعمال میں رہنے والے ڈائمنڈ سٹارز بھی شامل ہیں۔ ان میں سے اگرچہ کچھ ہی صیح حالت میں ہیں تاہم ڈیزائینرز روزٹ اینڈ فش میسٹر اب بھی ان کی جدید شکل بنا رہے ہیں۔
اداکارہ اور موناکو کی شہزادی گریس کیلی کے پانچ زیورات بھی یہاں موجود ہیں۔اور جیکی کینڈی اوناسس کے ڈائمنڈ فلیم کلپس بھی اس نمائش میں رکھے گئے ہیں۔
نکول کڈمین اور میریلین مونرو جیسے معروف فلمی ستاروں کے زیب تن کیے جانے والے ہیرے بھی اس نمائش میں رکھے گئے ہیں۔نمائش کے منتظمین وہاں رکھے گئے ہیروں کی کل مالیت بتانے کے لیے تیا رنہیں۔ تاہم انہیں یقین ہے کہ یہ زیورات دنیا بھر سے ہزاروں لوگوں کی دلچسپی کا مرکز بنیں گے۔