گزشتہ تیس برسوں کے دوران ہونے والی نمایاں تبدیلیوں میں یہ سب سے اہم ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے تقریباً ہر شخص کو انفارمیشن ورکر بنا دیا ہے۔ شاپنگ سے لے کر الیکشن کمپئین تک اب ہر چیز کے لئے انٹرنیٹ کا استعمال ہوتا ہے۔ گزشتہ سال انٹرنیٹ کی تین بڑی تنظیموں نے مل کر ایک ایسی ویب سائٹ بنائی ہے جس پر انٹرنیٹ صارفین احتجاج ریکارڈ کروا سکتے ہیں۔ انٹرنیٹ کے ذریعے عالمی مسائل پر لوگوں کی توجہ مبذول کروانے والی اس ویب سائٹ کا نام آواز ڈاٹ آرگ ہے۔
چین اور تبت کے مسئلہ پر وائٹ ہاوس کے باہر ہزاروں افراد نے مظاہرہ کیا۔ یہ احتجاجی مظاہرہ عالمی دن برائے عمل کو منانے کی ایک کڑی تھا۔ اسی روز نیویارک میں قائم آواز کے اس چھوٹے سے دفتر سے 14 لاکھ افراد کی طرف سے انٹرنیٹ پر ایک پٹیشن دنیا کے ہر ملک میں موجود چینی سفارت خانے کو بھجوائی گئی۔ جس میں چینی حکام پر زور دیا گیا کہ وہ دلائی لامہ کے ساتھ تبت کے حوالے سے گفتگو کریں۔ یہ کام لاکھوں افراد نے بغیر سڑکوں پر آئے صرف چند گھنٹوں میں کر دیا۔
دنیا کو عالمی مسائل سے روشناس کروانے اور ان کے خیالات جاننے کے لئے انٹرنیٹ کی بڑی طاقت آواز کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ ان مسائل میں ماحولیات، انسانی حقوق، غربت اور بدعنوانی کا خاتمہ اور جنگ بندی وغیرہ شامل ہیں۔ اس ویب سائٹ کے سربراہ نے اس کے مقاصد بتاتے ہوئے کہا کہ دنیا کے تمام لوگوں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے تاکہ وہ دنیا کی حکومتوں پر مسائل کے حل کے لئے زور دے سکیں۔
بنیادی نظریہ یہ ہے کہ اب دنیا ایک چھوٹی سی کمیونٹی بن گئی ہے ہر عالمی مسائل کے حوالے سے دنیا کے تمام لوگ ایک رائے رکھتے ہیں جسے سامنے لانا ضروری ہے۔ اب لوگ دنیا کو پہلے اور اپنے ملک کو دوسرے نمبر پر ترجیح دیتے ہیں۔ لوگ چاہے کسی بھی ملک کے ہوں وہ انسانی زندگی کی قدر کرتے ہیں اور اسے قیمتی سمجھتے ہیں۔
ایک سماجی نیٹ ورک کی طرح آواز کی ویب سائٹ پر عام لوگ رجسٹر ہو سکتے ہیں، جس کے بعد انہیں مختلف مسائل کے بارے میں معلومات اور احتجاجی مواد ای میل کے ذریعے بھیجا جاتا ہے۔ تمام ممبران مل کر کسی بھی مسئلے کی اہمیت کے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں۔
اسی طرح کسی سیاسی مہموں کے لئے ویب سائٹ کے تمام ممبران سے پولنگ کروائی جاتی ہے۔ انٹرنیٹ کی وجہ سے ہر ہفتے تقریبا دس ہزار ممبران سے سیاسی و سماجی مسائل اور ان کے حل کے لئے تجاویز لی جاتی ہیں۔ ان تجاویز کی بنیاد پر مسائل کی نشاندہی کی جاتی ہے اور اسے دنیا کے تمام رہنماوں کو ایک پٹیشن کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔ اس وقت تبت میں انسانی حقوق بحال کرنے کے حوالے سے پٹیشن جاری ہے۔ اور جب کسی بھی مسئلے کو دنیا کے لاکھوں لوگوں کی حمایت حاصل ہو تو بقول آواز اسے عوامی سرپرستی حاصل ہو جاتی ہے۔
ادارے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ تبت کے مسئلے پر ہمارے ممبران نے کم از کم ایک کروڑ بیس لاکھ لوگوں کو معلومات فراہم کیں اور انہیں یہ پٹیشن سائن کرنے کو کہا۔ یہ کام اتنا متحرک ہے کہ آپ کو دنیا اکٹھی ہو کر کسی مسئلے پر توجہ دیتی محسوس ہوتی ہے۔
اس وقت آواز کے ہر ملک میں ممبران موجود ہیں اور یہ دنیا کی 13 مختلف زبانوں میں کام کر رہی ہے۔ جیسے جیسے دنیا کے ترقی پذیر ممالک میں ٹیکنالوجی آتی جائے گی، آواز کو امید ہے کہ ان کے ممبران کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا جائے گا۔آواز کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جاپان کی حکومت نے ماحولیات پر ہونے والی ایک کانفرنس میں اپنا موقف تبدیل کر لیا۔ آواز کو امید ہے کہ مستقبل میں ان کے ممبران فلاحی مقاصد کے لئے دنیا سے چندہ بھی اکٹھا کریں گے تاکہ عملی طور پر لوگوں کی مدد ہو سکے۔