آپ کو یاد ہو گا کہ پاکستان میں 18فروری کے عام انتخابات کے عمل کا جائزہ لینے کے لیے دنیا بھر سے 500 سے زائد مبصرین اکٹھے ہوئے تھے۔ انتخابات کے بعد امریکی مبصرین کے ایک چار رکنی وفد نے اپریل میں پاکستان کا دوبارہ دورہ کیا اور انتخابی نتائج کے بعد کی صورتحال، نئی حکومت کو درپیش چینلجز، خارجہ پالیسی اور پاک امریکہ تعلقات کا ایک بار پھر جائزہ لیا۔ اس وفد نے امریکہ واپسی کے بعد ایک بریفنگ میں اپنے دورے کا احوال بتایا۔
پانچوں مبصرین نے سنٹر فار سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کے زیراہتمام پروگرام میں پاکستان کے انتخابی نتائج کو کسی حد تک دھاندلی کے باجود شفاف قرار دیا. انہوں نے انتخابی عمل میں اصلاحات کا مشورہ دیا تاکہ الیکشن کمیشن کو جانبدار نہ سمجھا جائے۔ مبصرین نے ووٹنگ کے عمل کو بھی فرسودہ بیان کیا اور کہا کہ پولنگ سٹاف کی تربیت جدید خطوط پر ہونی چاہیئے۔ انہوں نے بتایا کہ انتخابات میں انتظامی معاملات غیر اطمینان بخش تھے اور حکومتی وسائل صحیح طور پر استعمال نہیں ہو سکے۔
مبصرین نے سیاسی جماعتوں کے کردار کے حوالے سے بھی منفی تاثرات بیان کئے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت کا فقدان ہے اور وہ جاگیرداری کے نظام پر چلتے ہیں۔ اس وقت حکومت میں طاقت کے توازن کے مسائل حل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی اتحاد عوام کی خواہش کی ترجمانی کرتا ہے لیکن یہ اتحاد صرف صدر مشرف کی موجودگی سے مشروط ہے۔ صدر مشرف کے جانے کے بعد یہ اتحاد بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ سیاست دانوں کے تنازعات کی صورت میں فوج دوبارہ اقتدار میں آسکتی ہے اس لئے انہیں احتیاط کی ضرورت ہے۔
حکومت کو درپیش چیلنجز کے بارے میں مبصرین نے کہا کہ اقتصادی حالات میں بہتری، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور امن و امان کی صورتحال جیسی مشکلات کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ اور اس سب کے لئے پاکستان کو عالمی برادری کی مدد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ججز کا مسئلہ حل ہونا بھی لازمی ہے لیکن اگر عوام کو بجلی، پانی اور خوراک نہ ملی تو حکومت کے لئے مشکلات بڑھ جائیں گی۔
پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ امریکہ کی ہے لیکن اس کی قیمت پاکستان ادا کرتا رہا ہے۔ امریکہ کو زمینی حقائق کے بارے میں معلومات نہیں اور اسے نئی حکومت کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔ اس وقت ملک کے کئی علاقے ایسے ہیں جہاں پاکستان کی سیکیورٹی فورسز بھی داخل نہیں ہو سکتیں۔ انہوں نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے فیصلے کو سراہا۔
امریکی مبصرین نے خدشہ ظاہر کیا کہ نئی حکومت کے اتحاد کے ختم ہونے کی صورت میں مسائل بڑھ سکتے ہیں جس کی وجہ سے دو سال کے اندر اندر دوبارہ عام انتخابات کا امکان بھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں جمہوریت اسی صورت میں آسکتی ہے جب سیاسی جماعتیں مل کر عوامی مسائل کو حل کرنے میں سنجیدہ ہوں جبکہ ابھی تک قوم کے کسی مسئلے کا حل نہیں نکالا گیا ہے۔