 |
|
ایمبیسیڈر ہال بروک |
پاکستان میں نئی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد امریکہ میں مختلف حلقے قبائلی علاقہ جات کے حوالے سے پاکستان کی پالیسیوں پر تحفطات کا اظہار کر رہے ہیں ۔امریکی ایوان نمائندگان کی خارجہ پالیسی کی کمیٹی نے پاکستان کے حوالے سے امریکہ کو ایک ٹھوس اور واضح حکمت عملی اختیار کرنے کی بات کی ہے۔
امریکی ایوان نمائندگان کی کمیٹی برائے خارجہ تعلقات نے اپنی سماعت کے دوران ایک بار پھردفاعی ماہرین کے حوالے سے یہ خدشہ ظاہر کیا کہ پاکستان مستقبل میں القاعدہ کے کسی نئے حملے کے لئے لانچنگ پوائنٹ ثابت ہو سکتا ہے۔ خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے چئیر مین ہاورڈ برمین کا کہنا تھا کہ پاکستان میں نئی سویلین اور فوجی قیادت کے اقتدار میں آنے کے بعد امریکہ کے پاس ایک نیا موقعہ ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ پائیدار اور دو طرفہ مفاد پر مبنی تعلقات قائم کرے۔ ایک ایسا رشتہ جو تسلیم کرے کہ دہشت گردی پاکستان، اس کے پڑوسی ممالک اور دنیا کے لئے بڑا خظرہ بن چکی ہے۔ یہ تعلقات معاشی اور ترقیاتی تعاون تک ہی محدود نہ ہوں بلکہ اعتدال پسندی اور جمہوریت کے فروغ کے لئے کام کریں۔
ایمبیسیڈر ہال بروک کا کہنا تھا کہ یہ سچ ہے کہ امریکہ کے پاس اس علاقے کے لئے کوئی حکمت عملی نہیں ہے اور نہ ہی پاکستانی حکومت کے پاس کوئی واضح پالیسی ہے جو ابھی نئی جمہوری حکموت کے ابتدائی معاملات طے کر رہی ہے۔ نہایت قابل اعتبار افواہیں ہیں کہ پاکستانی حکومت چند ایسے قبائل سے معاہدے کرنے پر غور کر رہی ہے جس کے مطابق اگر وہ پاکستان کی آبادی والےمشرقی علاقوں سے دور رہتے ہیں تو انہیں افغانستان میں فری ہینڈ دیا جائے گا۔ صدر مشرف نے بھی ایسے ہی امن معاہدے کی کوشش کی تھی جو مکمل تباہی ثابت ہوا اور صدر مشرف نے بعد میں اس بات کا اعتراف بھی کیا۔
کمیٹی کے چئیر مین کا کہنا تھا کہ امریکہ کو ان طاقتوں کے خلاف مضبوطی سے کھڑے رہنا ہے جو امریکہ اور عالمی امن کو تباہ کرنا اور افغانستان کو دوبارہ اس دور میں لے جانا چاہتی ہیں جس نے القاعدہ اور دیگر دہشت گرد عناصر کو پناہ دی تھی۔ مگر اس کے لئے امریکہ کو پاکستان اور افغانستان کے زبردست تعاون کی ضرورت ہوگی اورپاکستانی عوام کو بتانا ہوگا کہ یہ جنگ امریکہ کے لئے نہیں خود پاکستان کے تحفظ کے لئے ہے لیکن اس سے بھی پہلے امریکہ کو پاکستان کے بارے میں ایک جامع حکمت عملی تیار کرنی ہوگی۔ مگر کمیٹی کے بعض اراکین نے پاکستان میں طالبان کے بڑھتے ہوئے اثر کے سامنے امریکی امداد کو بے معنی قرار دیا۔
رائس برال کا کہنا تھا کہ یہ بات قابل فہم ہے کہ سیکیورٹی ہماری ترجیح ہونی چاہئے لیکن میں پوچھنا چاہوں گا کہ اتنا پر امید ہونے کی کیا بات ہے۔ میرے خیال میں ہم جو پاکستان میں دیکھنا چاہتے ہیں ٴوہ خود ہی فرض کر رہے ہیں جبکہ پاکستان کی صورتحال کو ہمیں اسی طرح دیکھنا ہوگا جیسے کہ وہ ہے اوروہ ایسی ہی رہے گی۔ پاکستانی معاشرے میں ہم نے جو بھی تبدیلی دیکھی ہے وہ طالبان کے اثر کی وجہ سے ہےکیونکہ مدارس ہر روز ایسی سوچ کے حامل نوجوان تیار کر رہے ہیں۔ تو اس سے قطع نظر کہ ہم وہاں انفرا سٹرکچر ،گورننیس بہتر بنانے اور روزگار پیدا کرنے کے لئے کیا کر رہے ہیں، مجھے نہیں لگتا کہ اس سے کوئی فرق پڑے گا۔
کمیٹی کے بعض اراکین نے پاکستان کو دی جانے والی فوجی امداد کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے جیسے کہ امریکی حکومت پاکستان کو ائیر ڈیفنس راڈار کی دیکھ بھال کے لئے رقم کیوں فراہم کرے؟ جبکہ القاعدہ کے پاس کسی ائیر فورس کی موجودگی کے کوئی شواہد نہیں ملے۔ بعض اراکین کا کہنا تھا کہ پاکستان کو دی جانے والی امریکی امداد دہشت گردی کے خلاف ہے، پاکستان کی جنگی استعداد پڑھانے کا ذریعہ نہیں۔