سلطانہ ڈاکو کو برِصغیر کا روبن ہڈ بھی کہا جاسکتا ہے جو امیروں سے لوٹتا تھا اور غریبوں کو دیتا تھا۔ یہ مشہور کھیل 1920 میں لکھا گیا تھا اور ایک طویل عرصے تک تھیٹر کے ذریعے لوگوں کو اپنی طرف کھینچتا رہا مگر فلم کا آغاز اس کے ناظرین کو اپنی طرف لے گیا۔ کیلی فورنیا کے ناظرین اس کھیل کے ساتھ پرانے وقتوں میں چلے گئے۔
اس کھیل کو پیش کرنے والے گروپ نے اسے پیش کرنے سے پہلےکئی مہینے تیاری کی ۔ اس کی کاسٹ میں شامل فنکاراداکاری کا کوئی خاص تجربہ نہ رکھتے تھے اور وینکٹ نارائن کو تو سٹیج پر آنے سے پہلے اپنی اردو بھی درست کرنی پڑی۔
اس شو کے ڈائرکٹر دیویندارا شرما ہیں جو انڈیا میں پلے بڑھے اور امریکہ میں ایک کالج پروفیسر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس تاریخی کھیل کو تھیٹر تک لانا ایک بڑا چیلنج تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ ہم نے اس کے لیے لگاتار 9..9 کھنٹے رہرسلز کیں زیادہ تر اداکاروں کو گانا تک نہیں آتا تھا۔ اور تھیٹر کے کھیل میں گانے کا خاص طریقہ ہوتا ہے۔ اس لیے یہ مشکل تھا۔
شرما ماکہتے ہیں کہ ان کا یہ کھیل امریکہ میں ساوتھ ایشینز کو ان کی زمین کے قریب لے گیا اور وہ یہ کھیل پیش کرنے پر بہت خوش ہیں ۔