اس ہفتے کے اخبارات میں ہیلری کلنٹن اور باراک اوباما کے درمیان صدارتی نامزدگی کی طویل ہوتی جنگ اورانڈیانا اور نارتھ کیرولائنا کی پرائمریز کے نتائج چھائے رہے ۔امریکی اخبارات کاکہنا ہے کہ امریکی ٹی وی کا مشہور ترین ریئلٹی شو امیرکن آئیڈل اس سیزن میں کامیابی حاصل نہیں کر سکا کیونکہ امریکی عوام ہیلری اور اوباما کی لڑائی سے زیادہ لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ برما کے سمندری طوفان میں ایک لاکھ سے زائد ہلاکتیں اور واشنگٹن کی سیاسی بساط کو ایک نئے سکینڈل سے دوچار کرنے والی ڈی سی میڈم کی خود کشی کے بعد ملنے والا خط بھی اخبارات کا پسندیدہ موضوع رہا لیکن جو موضوعات ہم نے منتخب کیے ہیں آپ کے لئے ان میں سب سے پہلے پاکستان ہے۔
چار مئی کے نیو یارک ٹائمز نے پاکستان میں ترک سکولوں کے ایک سلسلے پر فیچر شائع کیا ہے ۔اخبار کے مطابق پاکستان میں تعلیم کا شعبہ بے حد کمزور ہے ۔ غریب طبقے کے پاس اپنے بچوں کو سرکاری سکول میں پڑھانے کے بھی وسائل نہیں۔ ایسے میں ترک اساتذہ کے ایک گروپ نے کراچی میں دس سال پہلے ایک سکول شروع کیا۔ یہ گروپ اعتدال پسند، لچکدار اور مغرب کے ساتھ مل کر چل سکنے والے اسلام کا علمبردار ہے اورسکولوں کا مقصد پاکستانی بچوں کو اسلام کے اعتدال پسند تصور سے متعارف کرانا ہے۔
اخبار کے مطابق اس وقت پاکستان کے سات شہروں میں یہ سکول کامیابی سے چل رہے ہیں۔ان کا نصاب مغربی تعلیمی نصاب کی روشنی میں ترتیب دیا گیا ہے اور انگریزی زبان میں پڑھایا جاتا ہے۔اخبار کے مطابق ان سستے مگر ماڈرن ترک سکولوں کا تصور ان پاکستانی والدین میں مقبول ہو رہاہے جو اپنے بچوں کو مغربی تعلیم دلوانے کے ساتھ ساتھ ان کا اسلامی تشخص بھی برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ کی 5مئی کی اشاعت میں خبر شائع ہوئی ہے کہ امریکہ بغداد کے گرین زون میں 5 ارب ڈالر کی لاگت سے ایک پانچ سالہ ترقیاتی پروگرام شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ جس کے تحت امریکی فوج کے لئے محفوظ سمجھے جانے والے گرین زون میں لگژری ہوٹل، شاپنگ سینٹر اور کونڈو طرز کے رہائشی مکانات تعمیر کئے جائیں گے۔اخبار کے مطابق یہ منصوبہ ایک ڈریم لسٹ کا حصہ ہے جو پینٹا گون نے تیار کی ہے۔اخبار کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ اسے ایک خواب قرار دے رہے ہیں کہ امریکی فوج کے حفاظتی کنٹرول میں واقع گرین زون کو فصیل بند قلعے سے ایک ماڈرن ہاوسنگ ایریا میں تبدیل کیا جائے مگر اخبار کے مطابق اس منصوبے کو پینٹاگون سمیت انٹرنیشنل ہوٹل انڈسٹری کے کچھ باثر حلقوں کی حمایت حاصل ہے۔
سات مئی کے واشنگٹن پوسٹ کے ادارتی صفحے کے ایڈیٹر کے نام خط میں ایک امریکی شہری برآئن مک نیل کاخط شائع ہوا ہے۔ لکھتے ہیں کہ عراق میں بڑھتے ہوئے تشدد کی بڑی وجہ شایدعراقیوں کا یہ خدشہ ہے کہ ہم امریکی وہاں ہمیشہ رہنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ ہم کیسے عراقی عوام کو تسلی دلائیں کہ ہم واپس چلے جائیں گے۔ خط میں مزید لکھا ہے کہ اگر یہ منصوبہ شروع ہوگیا تو صدر بش کے وہائٹ ہاؤس سے جانے تک امریکہ بغداد میں اس قدر سرمایہ لگا چکا ہوگا کہ وہاں سے نکلنا بیوقوفی معلوم ہوگی۔
4مئی کے نیو یارک ٹائمز میں نکو لس کرسٹوف کا کالم شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے گونٹا ناموبے کی جیل کو پرزم آف شیم یعنی امریکہ کے لئے شرمندگی کا باعث قیدخانہ قرار دیا ہے۔ کالم نگار کے مطابق پہلے وہ سمجھتے تھے کہ گونٹانامو کے قیدی جھوٹ اور پینٹا گون سچ بول رہا ہے مگر گزشتہ چھ سالوں کے دوران انہیں یقین ہو گیا ہے کہ گونٹا نامو کے قیدی امریکی حکام سے زیادہ قابل اعتبار ہیں۔
چھ مئی کے واشنگٹن پوسٹ نے اسی موضوع کو فرنٹ پیج کی سٹوری بنایا ہے۔ جس کے مطابق گیارہ ستمبر کے حملوں کے تقریبا سات سال گزرنے کے بعد بھی گونتا نامو میں قید کئے جانے والے 775مشتبہ دہشت گردوں میں سے اب تک کسی کامقدمہ جیو ری ٹرائل کےمرحلے تک نہیں پہنچ سکا اور نہ ہی اس بات کا امکان ہے کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کا کوئی بھی ملزم بش انتطامیہ کے وائٹ ہاوس سے رخصتی تک کسی عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ اگرچہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈسمجھے جانے والے خالد شیخ محمدکو آئندہ کچھ ہفتوں میں عدالت کے سامنے پیش کیے جانے کی توقع ہے مگر امریکی حکام کے مطابق گونٹانامو کے ملزمان کے خلاف پہلی باقاعدہ شہادت یا ثبوت دنیا کے سامنے آنے میں ابھی کم از کم ایک سال لگ سکتا ہے ۔