 |
|
نیویارک پوسٹ کا 7 مئی کا اخبار |
اب جبکہ صرف پانچ پرائمری الیکشنز ہونے رہ گئے ہیں کہا جا رہا ہے کہ سینٹر ہلری کلنٹن کہ لیے پارٹی کی نامزدگی حاصل کرنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔ بہت سے تجزیہ کار حتی کہ ڈیموکرٹک پارٹی کے ممبران بھی ہلری کلنٹن سے یہ اپیل کر رہے ہیں کہ وہ ریس سے الگ ہو جائیں اور پارٹی کو اپنی پوری توجہ براک اوباما پر صرف کرنے دیں۔
دوسری جانب ہلری کلنٹن کا کہنا ہے کہ جب تک کوئی نامزد نہیں ہو جاتا میں اس ریس میں رہوں گی اور یقیناً میں نامزدگی حاصل کرنے کے لیے جتنی محنت کر سکتی ہوں کروں گی۔
سینٹر کلنٹن نے مزید محنت کا لفظ استعمال کر کے انڈیانا میں اپنی معمولی سی فتح اورنارتھ کیرولاینا میں شکست کو اپنے کندھوں سے اتار دیامگر ڈیموکریٹس کی ایک بڑی تعداد یہ کہ رہی ہے کہ ہلری کلنٹن ، سینٹر براک اوباما کو شکست نہ دے سکیں گی جو نامزدگی حاصل کرنے کے بہت قریب ہیں جبکہ ہلری کلنٹن مختلف موقعوں پر یہ کہہ چکی ہیں انہیں سپر ڈیلی گیٹس کی حمایت بھی حاصل ہوجائے گی۔
چند روز پہلے ہلری کلنٹن نے براک اوباما کو ایک خط لکھا اور ان سے یہ اپیل کی کہ وہ ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی سے مشی گن اور فلوریڈا کے ووٹرز کو سالانہ کنوینشن میں شامل کیے جانے کے لیے ان کی مدد کریں۔ یاد رہے کہ پارٹی عہدے داران نے ان دونوں ریاستوں کے ڈیلگیٹس کو کنوینشن میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ ان ریاستوں نے پرائمیریز کا انعقاد مقررہ تاریخ سے پہلے کر لیا تھا اور ہلری کلنٹن نے وہاں بڑی فتح حاصل کی تھی۔ دوسری طرف پارٹی ممبران کا کہنا ہے کہ اب پارٹی کو اکھٹے ہو کر ایک امیدوار کے لیے کام کرنا چاہیے۔
دونوں پارٹیوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جتنی جلدی امیدوار نامزد ہوتا ہے اتنی ہی جلدی نومبر کے عام انتخابات کے لیے ڈیموکریٹس اور رپبلیکنز کے درمیان وائٹ ہاوس تک پہنچنے کا مقابلہ شروع ہو جائے گا۔