وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہاہے کہ پاکستان کے عوام تبدیلی چاہتے ہیں اور انہوں نے پیپلز پارٹی کو تبدیلی لانے کے لیے ووٹ دیا ہے۔ یہ تبدیلی ایک ایسے نظام کی تشکیل کے لیے ہے جس میں امن ہو، خوشحالی ہو اور استحکام ہو۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت 1973 کے آئین کی بحالی چاہتی ہے اور اس جانب آگے بڑھ رہی ہے۔
مسلم لیگ نواز کے وزراء کے استعفوں کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ مسلم لیگ اب بھی ہماری اتحادی جماعت ہے اور ہم ملک کی خوش حالی اور ججوں کی بحالی کے لیے مل کر کام کررہے ہیں۔ انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان جلد تعلقات بہتر ہوجائیں گے۔
وائس آف امریکہ کو دیئے گئے اپنے اس انٹرویو میں وزیر اعظم نے کہا کہ جو لوگ 3 نومبر کے غیر قانونی اقدامات کا ذکر کرتے ہیں ، اسی کے تحت یہ انتخابات ہوئے ہیں اور انہیں انتخابات کے نتیجے میں یہ پارلیمنٹ وجود میں آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت پارلیمنٹ کی بالادستی کے لیے کام کررہی ہے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم گیلانی نے کہا کہ یہ جنگ پاکستان اپنے ملک میں امن وامان کے قیام کے لیے لڑ رہا ہے تاکہ ملک میں معاشی ترقی ہو سکے اور حکومت نے خوش حالی کا جو وعدہ کیا ہے اسے پورا کیا جاسکے۔
ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اس سلسلے میں امریکی مخالفت کو وزن نہیں دیا جائے گا کیونکہ توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات اور معاشی ترقی کے لیے پاکستان کو گیس درآمد کرنے کی اشد ضرورت ہے۔