 |
| پٹرول کی آسمان سے باتیں کرتی ہوئی قیمتیں |
دنیا کے دوسرے کئی ملکوں کی طرح امریکہ کی معیشت بھی ان دنوں مشکلات کا شکار ہے اور یہاں پراپرٹی کے شعبے کو کساد بازاری کا سامنا ہے۔ لاکھوں امریکی اپنے مکانوں اور جائیدادوں کی قسطیں ادا کرنے کے قابل نہیں رہے اور مالیاتی ادارے ان کی جائیدادیں قرق کرکے نیلام کررہے ہیں۔
دوسری جانب امریکی معیثت بھی دباؤ میں ہے اور مارکیٹ سست روی کی زد میں ہے۔اکثر کاروبار وں میں منافع کی شرح یا تو بہت کم رہی گئی ہے یا پھر وہ خسارے میں جارہے ہیں۔ ماہرین اس کی وجہ تیل کی آسمان سے باتیں کرتی ہوئی قیمتوں کو قرار دیتے ہیں جس نے زندگی کے تقریباً ھر شعبے کو متاثر کیا ہے۔
امریکہ کا مرکزی بینک معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے شرح سود میں کئی بار کمی کرچکا ہے۔ ماہرین کا کہناہے کہ حکومت اورمرکزی بینک کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کے اثرات کچھ عرصے بعد ظاہر ہونا شروع ہوجائیں گے۔
معاشی سست روی اور کساد بازاری کے ماحول میں بھی کئی ایسے کاروبار ہیں جس میں گہماگہمی برقرار رہتی ہے۔ امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ سخت ترین معاشی دباؤ کے باوجود کاسمیٹک کے کاروبار میں اضافہ ہوا ہے۔ اور کئی ایسے کاروبار بھی پھل پھول رہے ہیں جو معاشی کساد بازاری کی وجہ سے بند ہونے والے کاروباروں یا ان کی اشیاء کو اونے پونے میں خرید رہے ہیں یا جو انہیں اپنے کاروبار بند کرنے میں مدد دے رہے ہیں۔
جب بھی کسی ملک کے مواشی حالات خراب ہوتے ہیں تو ایک طبقہ ایسا ہوتا ہے جس کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے۔ امریکہ میں پٹرول ، کھانے اور ملکییت کی بڑھتی ہوی قیمتوں نے ایک ایسا طبقہ بھی پیدا کر دیا ہے جو نقصان کو منافع میں تبدیل کر دیتا ہے۔