 |
|
رچرڈ باوچر |
امریکی نائب وزیرِ خارجہ برائے جنوبی اور وسطی ایشیا رچرڈ باوچر اور عالمی امداد کے لیے امریکی ادارے یوایس اےآئی ڈی کے سینیئر ڈپٹی اسسٹنٹ ایڈ منسٹیٹر برائے ایشیاء مارک وارڈ نے کانگریس کی سب کمیٹی برائے مشرقِ وسطی اور جنوبی ایشیا کو پاکستان کے لیے دی جانے والی امداد اور وہاں پر جاری ترقیاتی کاموں کے حوالے سے بریفنگ دی۔
کمیٹی کے چیرمین گیری ایکر مین نے مختلف تھنک ٹینکس کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے پاس پاکستان کے قبائیلی علاقوں میں دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے کو ئی خاص پلان نہیں ہے اور بش انتظامیہ نے ملکی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان میں القائدہ کے ٹھکانوں کو ختم کرنے کے لیے کوئی خاص اقدامات نہیں کیے جس پر اسسٹنٹ سیکرٹری رچرڈ باوچر نے کہا کہ امریکہ دہشت گردی سے نمٹنے، سیکورٹی فورسسز کو مضبوط بنانے اور معیشت کو مضبوط کرنے میں پاکستان کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔
مارک وارڈ نے کہا کہ قبائلی علاقوں کہ لیے ایک ایسا پروگرام شروع کیا جا رہا ہے جس کا فائدہ براہِ راست عوام کو ہوگا اور انہیں محسوس ہو گا کہ ان کی حکومت ان کے لیے کام کرنا چاہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2009 کے لیے دئے جانے والا پروگرام یوایس اے آئی ڈی کو یہ موقع دے گا کہ ہم پاکستان کے ان علاقوں میں بھی کام کر سکیں جہاں ہم پہلے کام نہیں کر رہے تھے جیسا کہ وادیِ سوات اور شمالی علاقے،جنوبی پنجاب اور شمالی سندھ، ایسے علاقے جہاں حکومت اور دیگر فلاحی اداروں نے توجہ نہیں دی
رچرڈباوچر نے یہ بھی کہا کہ امریکہ جدید تعلیم جمہوریت اور جمہوری اداروں کے استحکام کے لیے پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔