معین فدا ایسی کاروباری شخصیت ہیں جو پاکستان کے بہت سے اعلیٰ سرکاری اور غیرسرکاری تجارتی عہدوں پر فائز رہے۔ کراچی سٹاک ایکسچینج کے ڈائریکٹر سے لے کر پرائیوٹائزیشن کمیشن کے ممبر تک، اور مینجمنٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر سے اب سنٹر فار انٹرنیشنل پرائیویٹ انٹرپرائز کے کنٹری ڈائیریکٹر انہوں نے پاکستان کی معیشت کے اتار چڑھاو دیکھے ہیں۔
معین فدا کا کہنا ہے کہ پاکستان کی صورت حال بہت خراب ہے۔ بالخصوص بجلی اور توانائی کے سنگین بحران کی وجہ سے آنے والے دنوں میں پاکستان کی معیشت مزید ابتری کی طرف جائے گی کیونکہ بجلی کی شدید قلت کے باعث صنعتی شعبے پر برے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ اس کی پیداوار اور کوالٹی متاثر ہورہی ہے جس کا اثراس کی برآمدات پر بھی پڑسکتا ہے۔
معین فدا کا کہنا ہے کہ ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے حکومت کو فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ حکومت توانائی کی پیداوار میں اضافے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کرے۔ نئے بجلی گھر قائم کیے جائیں اوراس کے لیے تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جائے۔
معین فدا نے یہ تجویز پیش کی ہے کہ حکومت کو سفید انقلاب کے لیے کام کرنا چاہیے۔ سفید انقلاب سے ان کی مراد دودھ اور اس کی مصنوعات تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے اس شبعے میں آگے کے وسیع امکانات ہیں اور ان مصنوعات کی دنیا بھر میں ایک بڑی مارکیٹ موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اپنے زرعی شعبے کی ترقی پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ ایک ایسے وقت میں جب دنیا میں خوراک کی قلت ایک سنگین مسئلے کے طورپر سامنے آرہی ہے، پاکستان زراعت کو مزید ترقی دے کر نہ صرف غذائی بحران کے اثرات سے خود کو بچا سکتا ہے بلکہ زرعی برآمدات کے ذریعے کثیر زر مبادلہ بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔