 |
|
شٹل اینڈیور |
امریکی خلائی ادارے نے شٹل اینڈیور کو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کی جانب 16 روزہ مشن پر روانہ کردیا ہے۔
شٹل منگل کے روز فلوریڈا کے بحرِ اوقیانوس کے ساحل واقع پر کینیڈی خلائی مرکز سے سات خلا بازوں اور کچھ جدید آلات کے ساتھ منہ اندھیرے روانہ ہوئی۔یہ ناسا سے انٹرنیشنل خلائی اسٹیشن کی جانب شٹل کی 25 ویں پرواز ہے۔
اینڈیور جاپانی خلائی لیبارٹری کا پہلا حصہ اور کینیڈا کا تیار کردہ ایک روبوٹ لے کر جارہی ہے۔ یہ روبوٹ خلا میں چہل قدمی کرنے والے خلا باز وں کے کچھ کام سرانجام دے گا۔
جاپانی لبیارٹری کو کیبو کا نام دیا گیاہے جس کا مطلب جاپانی زبان میں ’امید‘ ہے۔ اگر شٹل کی پروازیں پروگرام کے مطابق ہوتی رہیں تو اس کا آخری عرشہ اگلے سال تک خلائی اسٹیشن پہنچا دیا جائے گا۔
کینیڈا کا تیار کردہ روبوٹ ایک انسانی جسم کی طرح دکھائی دیتاہے جس کا اوپر کا حصہ کمر کی جگہ سے گھوم سکتا ہے۔ اس کے کندھے بھی ہیں جو اس کے بازوؤں کو دونوں طرف سے سہارا دیتے ہیں۔ہر بازو میں ایک ہاتھ ہے جس میں حرکت کرنے والی انگلیاں ہیں جو چیزوں کو پکڑنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔اس روبوٹ کو عملہ خلائی اسٹیشن کے اندر سے یا زمینی مرکز سے ماہرین کنٹرول کرسکتے ہیں۔
خلائی اسٹیشن میں اپنے قیام کے دوران پانچ خلائی قدمیاں کریں گے۔ یہ 16 روزہ مشن شٹل کا خلائی اسٹیشن تک اب تک کا سب سے طویل دورانیے کا مشن ہوگا۔