 |
| سڈنی میں ایشیاء بحرالکاہل سربراہی کانفرنس کے دوران امریکی صدر بش ، روس کے صدر پیوٹن سے ملاقات کر رہے ہیں |
سڈنی میں ایشیاء بحرالکاہل ملکوں کے لیڈروں کی دو روزہ سربراہی کانفرنس کے پہلے دن ماحول کو تبدیل کرنے والے گرین ہاؤس گیسووں کے اخراج کی کمی پر اتفاق کرتے ہوئے، اس مسئلے پر مزید کام کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
آسٹریلیا کے وزیر اعظم جان ہاورڈ نے کہا کہ دنیا کے 21 ملکوں نے آج ہفتے کے دن اس مار اتفاق کیا ہے کہ گرین ہاٴس گیسوں کے اخراج میں کمی کے اہداف مقرر کیے جایئں اور ہر ملک اس مقصد کے حصول کے لیے مقدور بھر ہاتھ بٹائے گا۔
کانفرنس میں گیسوں کی کمی کا کوئی واضح اور بین ہدف مقرر نہیں کیا گیا۔
ماحولیات کے ماہرین کا تقاضہ ہے کہ ایشیاء اور بحر الکاہل کے ممالک کمی کے اہداف واضح طور پر مقرر کر یں۔ جبکہ امریکہ، چین اور آسٹریلیا سمیت کئی ملک کسی ایسے معاہدے کی مخالفت کر رہے ہیں۔
اجلاس کے اختتام سے پیشتر امریکی صدر بش کانفرنس ختم ہونے سے پیشترچلے گئے۔ انہوں نے اپنے آسٹریلیا کے قیام کے دوران کئی عالمی لیڈروں سے علیحدہ ملاقاتیں کی ہیں۔
سربراہی کانفرنس کے دوران سڈنی میں تین ہزار کے قریب مظاہرین نے عراق، ماحول اور دیگر اقتصادی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔
توقع ہے کہ سربراہی کانفرنس میں دنیا سے غربت کو کم کرنے کے سلسلے میں عالمی ادارہ تجارت کے دوہا دور کے مذاکرت کی تجدید پر بھی غور کیا جائے گا۔ یہ مذاکرات 2001ء میں ہوئے تھے تاہم پچھلے سال یہ تعطل کا شکار ہو گئے تھے۔