اس رپورٹ کی ویڈیو دیکھیئے
امریکہ نے گلوبل وارمنگ سے نمٹنے کے لئے اقوام متحدہ کے معاہدے کیوٹو پروٹوکول پر دستخط ضرور کئے تھے مگر کبھی اس کی توثیق نہیں کی ۔ واشنگٹں ڈی سی میں ہونے والی ایک نیوز کانفرنس میں پیو سینٹر آن گلوبل کلائمیٹ چینج کے ڈائریکٹر ایلیٹ ڈیرینگرنے کہا کہ عالمی رہنما گلوبل وارمنگ کے حوالے سے اقوام متحدہ کے قائدانہ کردار کے خواہش مند ہیں ۔
کیوٹو پروٹوکول وہ پہلا عالمی معاہدہ تھا جوماحولیاتی حدت کی وجہ بننے والی گرین ہاوس گیسز کے اخراج کو روکنے کے لئے کیا گیا تھا ۔بش انتظامیہ کی جانب سے اس معاہدے پر تنقید کی گئی تھی ۔کیونکہ اس معاہدے کے تحت ترقی پذیر ممالک کو گرین ہاوس گیسز کااخراج روکنے کا پابند نہیں کیا گیا ۔
ایلیٹ ڈیرینگر کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میںآئندہ موسم بہار کے اختتام تک امریکہ میں ایسی کوئی قانون سازی ہو سکتی ہے ۔کیونکہ یہ نہایت ضروری ہے کہ ہمارے پاس 2010کے آخر تک ایسا کوئی قانون موجود ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ہماری معیشت دنیا کے دیگر معیشتوں کے ساتھ مقابلہ کرے،ماحو ل کو بچانے کے لئے بھی تاکہ ہم دور رس اہداف حاصل کریں اور مسابقت کے نکتہ نظر سے بھی۔تو میرے خیال میں یہ امریکہ کے اپنے مفاد میں ہے کہ وہ کیوٹو پروٹوکول پر عمل درآمد میں ایک قائدانہ کردار ادا کرے ۔