اقوام متحدہ ماحولیاتی تبدیلی پر گفتگو کے لیے اکٹھے ہونے والے عالمی راہنماؤں کے اب تک کے سب سے بڑے اجتماع کی میزبانی کر رہا ہے ۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان گی مون ن پیر کے روز عالمی ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنجوں پر ایک روزہ کانفرنس کی میز بانی کر رہے ہیں۔
اس اجلاس میں لگ بھگ 80 ملکوں کے سر براہان اور حکومتی راہنما شامل ہوں گے۔ صدر بش اس اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔یہ کانفرنس اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے آغاز سے ایک روز قبل ہو رہی ہے۔
پیر کے روز اقوام متحدہ نے کہا کہ اس اجلاس کامقصد ماحولیاتی تبدیلی پر انڈونیشیا میں اقوام متحدہ کی ایک 11 روزہ کانفرنس سے پہلے فضا اور سیاسی وابستگیوں کی راہ ہموار کرنا ہے۔
دسمبر میں ہونے والے اس اجلاس کا مقصد کیوٹو پروٹوکول کی جگہ ایک اور معاہدہ طے کرنا ہے ۔کیوٹو پروٹوکول کے تحت 160 سے زیادہ ملک کاربن ڈائی آکسائڈ گیس کے اپنے اخراج میں کمی پر متفق ہوئے تھے۔
بش انتظامیہ کیوٹو پروٹوکول کی مخالف ہے جو 2012ءمیں ختم ہو جائے گا۔پیر کے اجلاس میں جن موضوعات کا احاطہ کیا جائے گا ان میں فنڈز کی فراہمی ، ٹیکنالوجی اور کاربن گیسوں کے اخراج میں کمی شامل ہیں ۔
کانفرنس کے متعدد مقررین میں امریکہ کے سابق نائب صدر ایل گور اور کیلی فورنیا کے گورنر آرنلڈ شیورزنیگر شامل ہیں۔
اگرچہ مسٹر بش ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق اس اجلاس میں حصہ نہیں لے رہے مگر امریکہ اس ہفتے کے آخر میں اس موضوع پر واشنگٹن میں خود اپنا ایک دو روزہ اجلاس منعقد کرے گا۔