دنیا کی نظریں اٹلی پر بھی جمی ہیں جہاں اگلے ماہ معاشی اعتبار سے دنیا کے طاقتور ترین ممالک کی تنظیم جی ایٹ کی کانفرنس ہونے والی ہے۔ یہ توقع کی جارہی ہے کہ عالمی مسائل کے ساتھ ساتھ ان کی توجہ کا مرکز افریقہ کی خراب صورت حال بھی بنے گی۔

لندن میں اینٹی پاورٹی گروپ ایکشن ایڈ کی میریڈیتھ الیکزینڈر کا کہنا ہے کہ جی ایٹ غریب ممالک کی مدد کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایکشن ایڈ کے مطابق اقتصادی بحران کے نتیجے میں افریقہ کوپچاس ارب ڈالرکا نقصان پہنچا۔ جبکہ افریقہ میں ماحولیاتی تبدیلی، خوراک کی کمی، ایڈز اور تعلیمی مسائل افریقہ کے حالات ابتر بنا رہے ہیں۔ جی ایٹ کی جانب سے ان تمام مسائل پر توجہ دینا خوش آئند ہے۔
ایکشن ایڈ کا خیال ہے کہ جی ایٹ ممالک افریقہ میں زراعت کے شعبے پر توجہ دیں گے۔ الیکزینڈر کے مطابق افریقہ میں چھوٹے کسانوں کی مدد کرکے ان کو مسائل کے بحران سے نکالا جا سکتا ہے بشرطیکہ جی ایٹ ممالک ماضی کی طرح غریب ممالک کو محض امداد کے وعدوں سے نہ ٹالیں۔
انہوں نے کہا کہ میرے نزدیک جی ایٹ ممالک کو اپنے وعدے پورے کرنے کے لیے کام کرنا ہوگا۔ ورنہ سب بے معنی ہے۔
انٹرنیشنل ایڈ آرگنائزیشن ون ، جی ایٹ ممالک بطور ِ خاص اٹلی کے کردار کے حوالے سے فکرمند دکھائی دیتی ہے۔ گروپ کے مطابق اٹلی کے وزیر ِ اعظم2008 کے جی ایٹ سمٹ میں کیے گئے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہے اور اٹلی ابھی بھی اس حوالے سے زیادہ متحرک دکھائی نہیں دیتا۔
تنظیم کے یورپ کے لیے ڈائریکٹر اولیور بسٹن کا کہنا ہے کہ آپ کو اپنے عہدے کی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے اپنے وعدے پورے کرنے چاہییں۔
گروپ کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ دیگر ممالک کے عہدے داران اٹلی کو اپنے دیگر اخراجات روک کر افریقی زراعت کی مدد کرنے کی طرف راغب کر سکیں گے۔
بسٹن کا کہناتھا کہ وعدے پورا کرنا ایک لازمی چیز ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اگر اٹلی نے افریقی امداد کا اپنا وعدہ پورا کیا تو افریقہ کو کتنا فائدہ ہوگا۔ جی ایٹ ممالک غریب قوموں کی مدد کا وعدہ کرتے ہیں جو انہیں پورا کرنا چاہیئے۔
انٹرنیشنل ایڈ آرگنائزیشن ون کا کہنا ہے کہ 2005 میں جی ایٹ ممالک کی جانب سے کی گئی امداد کا صرف ایک تہائی فیصد ادا کیا گیا۔ مگر انٹرنیشنل ایڈ آرگنائزیشن ون اور دیگر تنظیموں کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ2009 کی جی ایٹ میٹنگ میں جی ایٹ ممالک غریب ممالک کی مدد کے ضمن میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

