جنریشن گیپ یا نسلی تفاوت کا مسئلہ پاکستان سمیت دنیا کے ہر معاشرے میں موجود ہے۔ خاص طور سے امریکہ جیسے متنوع ملک میں جہاں جنوبی ایشیائی نوجوانوں کو اپنے بزرگوں یا والدین کو اپنی بات سمجھانا اور خود ان کی بات سمجھنا بہت مشکل  محسوس ہوتا ہے۔ ان مسائل کے حل کے لیے امریکی یونیورسٹیوں میں پاکستانی امریکن کمیونٹی  نے نئی نسل اور والدین کو قریب لانے کے لیے مکالموں کے ایک سلسلے کا آغاز کیا ہے جسے ’میٹنگ آف مائنڈز‘ کا نام دیا گیا ہے۔

(اس صفحے کے آخر میں اس رپورٹ کی ویڈیو ملاحظہ فرمائیے۔)

ورجینیا کی جارج میسن یونیورسٹی میں اسی طرح کے ایک مکالمے میں  مقامی پاکستانی کمیونٹی   کی نئی اور پرانی نسل نے شرکت کی اور ایک دوسرے کو بہتر طریقے سے سمجھنے کے لیے بات چیت کی۔ اس مکالمے کے روح رواں پروفیسر فیضان حق تھے جو بفلو یونیورسٹی میں اسلامک کلچرل ہسٹری پڑھاتے ہیں۔

پروفیسر فیضان کا کہنا تھا کہ یہاںٕ ، امریکہ میں، جنوبی ایشیائی اور خاص طور سے پاکستانی کمیونٹی کی نئی نسل کے پاس دو مختلف دنیائیں ہیں جہإں سے وہ بیک وقت سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ایک طرف مذہب ہے اور دوسری طرف ماڈرن کلچر کی یلغار ہے ۔ دونوں میں ہی ایک خاص کشش ہے جس کی وجہ سے نئی نسل کے لیے مسائل پیدا ہو رہے ہیں اور وہ  اپنے بزرگوں سے دور ہو رہی ہے۔ ان دو نسلوں کے خیالات میں بہت زیادہ اختلاف ہے جو خطرناک حد تک پہنچ رہا ہے ۔  اسے ختم کرنے کے لیے ہمیں ان دونوں میں موجود فاصلے کو دور کرنا ہے۔اور مکالمے کے ذریعے ہی اسے ختم کیا جا سکتا ہے کہ دونوں آمنے سامنے آئیں اور ایک دوسرے سے بات کریں۔

مکالمے میں موجود بچوں اور بڑوں نے کھل کر ایک دوسرے سے بات کی۔ بچوں کا کہنا تھا کہ بڑے ان کی بات نہیں سنتے اور بلا سوچے سمجھے اپنے تجربات کو ان پر ٹھونسنے کی کوشش کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ ان کی بات بھی نہیں سنتے۔ جب کہ والدین کا کہنا تھا کہ بچوںٕ کو اپنے ماں باپ کو اعتما د دینے کی ضرورت ہے تاکہ والدین انھیں ان کے فیصلوں کی آزادی دے سکیں۔

پروفیسر فیضان حق کے مطابق ان کی کوشش ہے کہ امریکہ کی مختلف یونیورسٹیوں میں اس طرح کے مکالموں کا سلسلہ بڑھایا جائے ۔ کالج جانے والے نو عمر طلبا کا ذہن اپنی نشو نما کے آخری مراحل میں ہوتا ہے اور یہی وہ وقت ہے جب ہم جرییشن گیپ یا نسلی تفاوت کے اس مسئلے کو بر وقت حل کر سکتے ہیں۔ جنریشن گیپ یا نسلی تفاوت کا مسئلہ پاکستان سمیت دنیا کے ہر معاشرے میں موجود ہے۔ خاص طور سے امریکہ جیسے متنوع ملک میں جہاں جنوبی ایشیائی نوجوانوں کو اپنے بزرگوں یا والدین کو اپنی بات سمجھانا اور خود ان کی بات سمجھنا بہت مشکل محسوس ہوتا ہے۔ ان مسائل کے حل کے لیے امریکی یونیورسٹیوں میں پاکستانی امریکن کمیونٹی نے نئی نسل اور والدین کو قریب لانے کے لیے مکالموں کے ایک سلسلے کا آغاز کیا ہے جسے ’میٹنگ آف مائنڈز‘ کا نام دیا گیا ہے۔ ورجینیا کی جارج میسن یونیورسٹی میں اسی طرح کے ایک مکالمے میں مقامی پاکستانی کمیونٹی کی نئی اور پرانی نسل نے شرکت کی اور ایک دوسرے کو بہتر طریقے سے سمجھنے کے لیے بات چیت کی۔ اس مکالمے کے روح رواں پروفیسر فیضان حق تھے جو بفلو یونیورسٹی میں اسلامک کلچرل ہسٹری پڑھاتے ہیں۔ پروفیسر فیضان کا کہنا تھا کہ یہاںٕ ، امریکہ میں، جنوبی ایشیائی اور خاص طور سے پاکستانی کمیونٹی کی نئی نسل کے پاس دو مختلف دنیائیں ہیں جہإں سے وہ بیک وقت سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ایک طرف مذہب ہے اور دوسری طرف ماڈرن کلچر کی یلغار ہے ۔ دونوں میں ہی ایک خاص کشش ہے جس کی وجہ سے نئی نسل کے لیے مسائل پیدا ہو رہے ہیں اور وہ اپنے بزرگوں سے دور ہو رہی ہے۔ ان دو نسلوں کے خیالات میں بہت زیادہ اختلاف ہے جو خطرناک حد تک پہنچ رہا ہے ۔ اسے ختم کرنے کے لیے ہمیں ان دونوں میں موجود فاصلے کو دور کرنا ہے۔اور مکالمے کے ذریعے ہی اسے ختم کیا جا سکتا ہے کہ دونوں آمنے سامنے آئیں اور ایک دوسرے سے بات کریں۔ مکالمے میں موجود بچوں اور بڑوں نے کھل کر ایک دوسرے سے بات کی۔ بچوں کا کہنا تھا کہ بڑے ان کی بات نہیں سنتے اور بلا سوچے سمجھے اپنے تجربات کو ان پر ٹھونسنے کی کوشش کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ ان کی بات بھی نہیں سنتے۔ جب کہ والدین کا کہنا تھا کہ بچوںٕ کو اپنے ماں باپ کو اعتما د دینے کی ضرورت ہے تاکہ والدین انھیں ان کے فیصلوں کی آزادی دے سکیں۔ پروفیسر فیضان حق کے مطابق ان کی کوشش ہے کہ امریکہ کی مختلف یونیورسٹیوں میں اس طرح کے مکالموں کا سلسلہ بڑھایا جائے ۔ کالج جانے والے نو عمر طلبا کا ذہن اپنی نشو نما کے آخری مراحل میں ہوتا ہے اور یہی وہ وقت ہے جب ہم جرییشن گیپ یا نسلی تفاوت کے اس مسئلے کو بر وقت حل کر سکتے ہیں۔