صدارتی اُمیدوار عبداللہ عبداللہ نے کہا ہے کہ وہ سات نومبر کو ہونے والے دوسرے اور فیصلہ کن انتخابی مرحلے میں حصہ نہیں لیں گے۔ سابق افغان وزیرخارجہ نے اتوار کو کابل میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس موقف کو دہرایا کہ افغانستان کے الیکشن کمیشن میں ان کی تجویز کردہ تبدیلیوں کے بغیر شفاف انتخابات کا انعقاد نا ممکن ہے۔
عبداللہ عبداللہ نے 20 اگست کے صدارتی انتخابات میں بڑے پیمانے پر ہونے والی دھاندلیوں اور بے قاعدگیوں سے بچنے کے لیے انتخابات کے فیصلہ کن مرحلے سے پہلے چند مطالبات کر رکھے ہیں جن میں افغانستان کے آزاد انتخابی کمیشن کے سربراہ اور کچھ وزراء کو برطرف کرنے کا مطالبہ بھی شامل ہے جنہوں نے مبینہ طور پر پہلے مرحلے میں صدر حامد کرزئی کی جیت کو یقینی بنانے کے لیے دھاندلی کی حوصلہ افزائی کی۔ لیکن صدر کرزئی ڈاکٹر عبداللہ کے ان مطالبات کو پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں۔ افغان صدر کی انتخابی مہم کے ترجمان وحید عمر نے اتوار کے روز ڈاکٹر عبداللہ کی طرف سے انتخابات سے دستبردار ہونے کے فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ سات نومبر کو ووٹنگ طے شدہ پروگرام کے مطابق ہی ہو گی۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ عبداللہ نے انتخابات کے دوسرے مرحلے کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان نہیں کیا۔ بعد میں مسٹر عبداللہ نے ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اپنے حامیوں سے درخواست کی کہ وہ اپنے غم و غصے کے اظہار کے لئے سڑکوں پر نکل کر ہنگامے نہ کریں۔
امریکی وزیر خارجہ نے یروشلم میں ایک روز قبل صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ اگر صدارتی امیدوار عبداللہ کی طرف سے انتخابات کے دوسرے مرحلے کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا گیا تو یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہوگی اور اس سے افغانستان کے صدارتی انتخابات کی قانونی حیثیت متاثر نہیں ہوگی کیونکہ ان کے بقول ایسی صورت حال کا سامنا خود امریکہ اور دوسرے ملکوں کو بھی کرنا پڑا ہے۔
اعلیٰ امریکی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں صدارتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد ہی صدر باراک اوباما مزید امریکی افواج کو افغانستان بھیجنے یا نہ بھیجنے کا فیصلہ کریں گے۔

