سکیورٹی سے متعلق ایک افغان عہدے دار نے کہا ہے کہ جنوبی صوبے قندھار میں سڑک کے کنارے ایک بم کے دھماکے میں پانچ سرحدی محافظ ہلاک ہوگئے۔
بارڈر سکیورٹی فورس کے کمانڈر جنرل عبد الرّازق نے کہا ہے کہ پاکستان کی سرحد سے ملحق ضلعے سپِن بولڈاک کی ایک اہم سڑک پر بارڈر گارڈز کی موٹر گاڑی اتوار کو صبح سورج نکلنے سے پہلے بم سے جا ٹکرائى تھی۔
فرانس کی خبر رساں ایجنسی نے کہا ہے کہ طالبان نے اس حملے کی ذمّے داری کا دعویٰ کیا ہے۔
ہفتے کے روز افغان عہدے داروں نے کہا تھا کہ دارالحکومت کےایک مہنگے ہوٹل کے قریب راکٹ کے ایک حملے میں چار افراد زخمی ہوگئے۔
وزارتِ داخلہ کے ایک ترجمان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ راکٹ ایک ہسپتال اور سرینا ہوٹل کے درمیان ایک سڑک پر گرا۔ یہ ہوٹل غیر ملکی سیاحوں میں مقبول ہے۔ زخمیوں میں کم سے کم ایک افغان فوجی بھی شامل ہے۔
یہ ہوٹل دارالحکومت کے وسط میں ایوانِ صدر، حکومت کی وزارتوں اور سفارت خانوں کے قریب واقع ہے۔
طالبان جنگجوؤں نے پچھلے مہینے بھی اسی ہوٹل پر راکٹ فائر کیے تھے۔ لیکن کوئى شخص زخمی نہیں ہوا تھا۔
اس سے پہلے جنوری 2008 میں اس ہوٹل پر باغیوں کے ایک حملے میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

