سوات میں پاکستانی طالبان اور جنوبی وزیرستان میں پاکستان تحریکِ طالبان کے خلاف جاری آپریشن سے امریکہ میں اس سوچ کو تقویت ملی ہے کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے اندر دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے لیے سنجیدہ ہے۔ واشنگٹن میں موجود ماہرین کا کہنا ہے کہ القاعدہ پاکستان کے استحکام کے خلاف ہے اور صرف فوجی آپریشن سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔
پاکستانی حکومت نے پاکستان تحریکِ طالبان کو ملک میں امن و امان کا دشمن سمجھتے ہوئے ان کے خلاف بھر پور کاروائی شروع کر رکھی ہے اور سرکاری اطلاعات کے مطابق جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کامیابی سے جاری ہے۔ حسن منعنمے کا تعلق ہڈسن انسٹی ٹیوٹ سے ہے وہ کہتے ہیں کہ القاعدہ اور طالبان اس وقت کمزور ہو چکے ہیں مگر وہ پاکستان کو اپنے لیے محفوظ بنانے کی خاطر کوئی کسر نہیں اٹھا رکھیں گے۔
وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم القاعدہ کی بڑی لیڈرشپ کی جانب سے کیے گئے اعلانات پر غور کریں جن میں بن لادن، الظواہری اور ابویحی اللبی شامل ہیں اور اللبی جو اس دور میں القاعدہ کا آپریشنل لیڈر ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ انہیں پاکستان کو ایک ریاست کے طور پر فیل ہوتے دیکھنے کی بہت امید تھی۔ اور انہیں یہ امید تھی کہ اس کے بعد پاکستان القاعدہ کے لیے ایک گلوبل سینٹر کے طور پر کام کرے گا۔
انسٹی ٹیوٹ آف گلف افیئرز کے علی ال احمد کا کہنا ہے کہ پاکستان آج بھی القاعدہ کے لیے افغانستان سے زیادہ محفوظ جگہ ہے اور القاعدہ افغانستان کی نسبت پاکستان سے زیادہ کامیابی سے آپریٹ کر سکتی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ پاکستان، افغانستان کی نسبت القاعدہ کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے۔ کئی وجوہات کی بنا پر القاعدہ نے افغانستان کو نظر انداز کر دیا ہے۔ افغانستان کا ترقی یافتہ دنیا سے کوئی رابطہ نہیں ہے، پاکستان کا ہے۔ پاکستان سے پوری دنیا میں ہوائی سفر کیا جا سکتا ہےمگر افغانستان سے نہیں۔ پاکستان سے انٹرنٹ اور عالمی مالیاتی نظام تک رسائی ممکن ہے۔ وہ رقم بھیج سکتے ہیں اور رقم منگوا سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس صورتِ حال میں پاکستان کے چیلنجز مزید بڑھ جاتے ہیں اور اس میں فوج کے علاوہ سول اداروں کی طرف سے بہتر کارکردگی بہت اہم ہے۔ شجاع نواز کا تعلق اٹلانٹک کونسل سے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک سیاسی جماعتیں اسے اپنی جنگ تسلیم نہیں کرتیں۔ جب تک عام شہری اس جنگ کو اپنی جنگ نہ سمجھیں اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے خود کو تیار نہ کریں، تب تک صرف آرمی ہی ہو گی۔
جب آرمی علاقوں کو صاف کر دے اور سول اداروں کو وقت دے کہ وہ وہاں اپنے قدم مضبوطی سے جمائیں۔ اگر ایسا نہ ہوا تو یہ جنگ کبھی ختم نہیں ہو گی اور سب کچھ پہلے جیسا ہو جائے گا۔ ۔ مجھے ڈر ہے کہ سوات واپس چلا جائے گا۔ ۔ مجھے ڈر ہے کہ باجوڑ واپس چلا جائے گا۔ کیونکہ ہم نے باجوڑ کے لوگوں کے لیے کچھ نہیں کیا وہ آج بھی بحالی کا انتظار کر رہے ہیں۔
شجاع نواز کا کہنا تھا کہ پاکستانی آرمی دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے لیے ٹرینڈ نہیں تھی مگر اب وہ یہ حربے بھی سیکھ چکی ہے۔ اور اب اس سلسلے میں ائیر فورس کی مہارت کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔
دہشت گردی سے نمٹنے پر بات کرنے والے ماہرین پاکستانی افواج کی مہارت سے تو انکار نہیں کرتے مگر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فوجی کاروائیوں کے بعد ان علاقوں میں قانون کا نفاذ، کامیاب حکومت اور معاشی مواقعوں کی بحالی نہایت اہم ہے۔

