امریکی فوج کے ایک جائزے میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں لڑائى میں شدّت اور محاذِ جنگ پر بار بار تعیناتی کی وجہ سے افغانستان میں امریکی فوجیوں کے حوصلے بہت تیزی سے پست ہوگئے ہیں۔
آرمی سروے میں کہا گیا ہے کہ 2009ء میں ایسے فوجیوں کی تعداد، جنہوں نے اپنے یونٹ کے حوصلے کو بلند یا بہت بلند بتایا ہے، 2007ء کے ایک سروے کی 10.2 فیصد تعداد کے مقابلے میں تقریباً نصف یعنی 5.7 فیصد رہ گئى ہے۔
فوج کے سرجن جنرل لیفٹنینٹ جنرل ایرک شو میکر نے کہا ہے کہ فوجیوں کو بار بار لڑائى پر بھیجے جانے کی وجہ سے مسلسل اعصابی دباؤ کا سامنا ہے۔
افغانستان میں ہر پانچ فوجیوں میں سے ایک فوجی نے ذہنی پریشانی، اضمحلال یا شدید اعصابی دباؤ جیسے نفسیاتی مسائل کی شکایت کی ہے۔ سروے میں یہ بھی پتا چلا ہے کہ افغانستان میں تعینات فوجیوں کی پہلے سے زیادہ بڑی تعداد نے اپنی شادی شدہ زندگی میں مشکلات سمیت دوسرے گھریلو مسائل کا ذکر کیا ہے۔
اسی دوران، افغانستان میں نیٹو کے زیرِ قیادت اتحاد نے ہفتے کے روز اطلاع دی ہے کہ جمعے کے روز جنوبی اور مشرقی افغانستان میں بموں کے الگ الگ حملوں میں امریکہ کا ایک عام شہری اور دو امریکی فوجی ہلاک ہوگئے۔

