2001ء کے دہشت گرد حملوں میں کا نشانہ بننے والے بلند وبالا ورلڈٹریڈ سینٹر کے ٹوٹن ٹاورز میں ہزاروں ٹن سٹیل استعمال ہوا تھا۔ عمارت کی تباہی کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس کے ملبے سے حاصل ہونے والے سٹیل کو ملکی دفاع کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ اس سٹیل سے تیار کیا جانے والا امریکی جنگی جہاز یوایس ایس نیویارک جب اپنے اپنے پہلے سفر پرنیویارک پہنچا تو اس کا گرم جوشی سے استقبال کیا گیا۔ نیو یارک پہنچنے پر بحری جہاز گراونڈ زیرو کے قریب رکا اور اس موقع پر 11 ستمبر 2001ءکو ورلڈ ٹریڈ سنٹر میں ہلاک ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے اکیس توپوں کی سلامی دی گئی۔ ہلاک ہونے والوں کے رشتہ دار ، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے والے اداروں کے اہلکار اور سیاح اس بحری جہاز کو دیکھنے لے لئے وہاں موجود تھے۔
طلوع آفتاب کے فوراً بعد جب یوایس ایس شہر میں داخل ہوا تو اس کے خیرمقدم کے لئےسینکڑوں لوگ موجود تھے۔ بحری جہاز کے اگلے حصے میں استعمال کیا جانے والا ساڑھے سات ٹن سٹیل ورلڈ ٹریڈ سنٹر سے لیا گیاہے اور اس کے عقبی حصے پر ٹون ٹاورز کی تصاویر بنائی گئی ہیں۔ جہاز کے 15فی صد عملے کا تعلق نیویارک سے ہے۔
جب جہاز نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں ہلاک ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے توپ کے فائر کئے تو نیویارک کی پولیس ، فائر بریگیڈ اور ایمبولنس کے اہلکاروں نے بحری جہاز کو سلامی دی۔ بہت سے لوگ11 ستمبر 2001کی یادتازہ کرنے کے لئے وہاں جمع تھے۔
ایک سابق فوجی بل جیننگزکا کہنا ہے کہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے ملبے سے حاصل کردہ سٹیل کو امریکہ کے دفاع کے لئے استعمال کرنا ایک موزوں اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھےیہ جان کر فخر محسوس ہوتا ہے کہ اس جہاز میں تقریباً آٹھ ٹن سٹیل اس حادثے کی جگہ سے لیا گیا ہے۔
ایلی سن اور ڈیوڈ سینڈرسن ،نیو اورلینز سے آئےتھے۔ انہوں نے جہاز کی روانگی سے پہلے امریکی بحریہ کے لئے اس کا جائزہ لیا تھا۔ ڈیوڈ کہتے ہیں کہ جہاز بنانے والوں کو معلوم تھا کہ یہ ایک خاص منصوبہ ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ہم نے بہت احتیاط اور پیار سے اس سٹیل پر کام کیا، انتہائی صفائی کے ساتھ۔ اس کام میں حصہ لینے والے سب افراد میں فخر کا احساس نمایاں تھا۔
یہ بحری جہاز آئندہ چند روز میں بحریہ کے حوالے کیا جائے گا اور کچھ روز تک نیویارک کے شہری ،اپنے شہر کے نام پر بنائےگئے اس جہازکو قریب سے دیکھ سکیں گے ۔

