آسٹریلیا کےجن  ڈاکٹروں نےایک طویل اور مشکل جراحت کے بعد بنگلہ دیش کی جڑواں بہنوں کے جُڑے ہوئے سروں کو ایک دوسرے سے  الگ کیا ہے، اب  کہا ہے کہ یہ دونوں بہنیں صحت  یاب ہوجائیں گی۔   ان میں سے ایک بہن جمعرات کے روز ہوش میں آگئى  ہے۔

ڈاکٹروں نےکہا ہے  دونوں بہنوں میں جسمانی لحاظ سے زیادہ طاقتور تِرشنا، جسے دوائیں دیکر کومے کی حالت میں سُلادیا گیا تھا،  بہت اچھی حالت میں ہے  اور باتیں کررہی ہے۔    ڈاکٹروں نے اس اُمید کا اظہار کیا ہے دو سالہ ترشنا اور اُس کی بہن کرشنا  25 گھنٹوں کے آپریشن کے بعد  پوری طرح  صحت یاب ہوجائیں گی۔
اس سے پہلے ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ پیچیدہ جراحت کے دوران  دونوں بہنوں میں  سے کسی ایک کے دماغ کو نقصان پہنچنے کا 50 فیصد تک امکان ہے۔

یہ آپریشن اور  اب ترشنا کا اس قدر  جلد ہوش میں آجانا  اُس عجیب وغریب کہانی کا  ایک حصّہ ہے جو دو سال پہلے اُس وقت شروع ہوئى تھی، جب  دونوں بچیّوں کوکَس مپُرسی کی حالت  میں  ڈھاکےمیں ایک یتیم خانے میں پایا گیا تھا۔   جہاں سے اُنہیں آسٹریلیا لے جاکر مناسب طریقے سے پالا پوسا گیا اور  آخرِ کار ایک کامیاب آپریشن نے دونوں کو ایک دوسرے سے آزاد کردیا۔