آسٹریلوی وزیر اعظم کیوین روڈ دو طرفہ تعلقات میں اضافے اور حالیہ دنوں میں سڈنی اور میلبورن میں بھارتی طالب علموں پر حملوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سفارتی کشید گی میں کمی لانے کے مشن پر بھارت پہنچے ہیں۔
آسٹریلیا میں حالیہ مہینوں میں بھارتی طالب علموں پرحملوں کے واقعات کی بڑے پیمانے پر تشہیر کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات خراب ہوئے ہیں۔  ان میں سے کچھ حملوں کے بارے میں خیال ہے کہ ان کا محرک نسل پرستی تھی۔
توقع ہے کہ اپنے دورے میں آسٹریلیوی وزیر اعظم اپنے میزبانوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کریں گے کہ حملوں کے ان واقعات کے باوجودتعلیم کی غرض سے بیرون ملک جانے والے نوجوان بھارتیوں کے لیے آسٹریلیا نسبتاً محفوظ جگہ ہے۔
بھارتی سیاست دانوں اور ذرائع ابلاغ کے کچھ ادارے آسٹریلیا کی حکومت پر سڈنی اور میلبورن میں ہونے والے حملوں کی روک تھام کے لیے کافی اقدامات نہ کرنے کا الزام لگا تے رہے ہیں۔ 
عالمی سطح پر آب و ہوا کی تبدیلی،  معاشی سکڑاؤ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ بھی ایجنڈے پر موجود ہوسکتے ہیں۔ توقع ہے کہ بھارت مسٹر روڈ پر زور دے گا کہ وہ انہیں آسٹریلیا کا یورینیم خریدنے کی اجازت دیں۔ امکا ہے یہ تجویز مستر د کردی جائے گی کیونکہ آسٹریلیا جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط نہ کرنے والوں ملکوں کو ایسا مواد برآمد کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔
آسٹریلیا بھارت کی کثیر آبادی اور وہاں اقتصادی ترقی کی تیز رفتار کے پیشِ نظر اس کے ساتھ تجارتی تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے۔

 آنے والے عشروں میں چین کی طرح بھارت بھی آسٹریلیا کی اقتصادی ترقی میں اہم ثابت ہوسکتا ہے۔  دونوں ممالک اپنے اقتصادی تعلقات مستحکم کرنے کے لیے آزاد تجارت کے معاہدے پر غور کررہے ہیں۔
مسٹر روڈ کا یہ مختصر دورہ وزیر اعظم کے طورپر برصغیر کا پہلا دورہ ہے۔  اس دوران وہ ممبئی میں بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان کرکٹ میچ بھی دیکھیں گے۔