وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے مسئلے کے حل اور تشدد کے خاتمے کے لیے سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے خصوصی آئینی پیکج تیاری کے مراحل میں ہے، جِس کا جلد ہی اعلان کیا جائے گا۔
تاہم، اُن پر صوبائی کابینہ کے ارکان اور سیاسی جماعتیں شکوک و شبہات کا اظہار کر رہی ہیں اور اُن کا کہنا ہے کہ اُنھیں مجوزہ پیکج کے بارے میں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
جمیعت علمائے اسلام سے تعلق رکھنے والے سینئر وزیر مولانا عبد الواسع نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ بلوچستان کابینہ کے ارکان کو تاحال اِس کی تفصیلات سے لاعلم رکھا گیا ہے۔
اِس بارے میں بلوچ قوم پرست جماعت، نیشنل پارٹی سے پوچھا گیا تو سیکریٹری اطلاعات جان محمد بُلیدی کا کہنا تھا کہ ایک طرف آئینی پیکج کی تیاری کی بات ہو رہی ہے، دوسری طرف مسلم لیگ ن اور پی پی پی جیسی اہم سیاسی جماعتیں، اُن کے بقول، اپنے مسائل میں گرفتار ہیں۔ ‘اُن کا بنیادی مسئلہ سترہویں ترمیم اور 58(2B)ہے، جو ہمارا بھی ہے۔ لیکن، ہم یہ چاہتے ہیں کہ اِس ترمیم میں وہ بھی شقیں شامل کی جائیں جِن میں یہاں کی جو قومیں ہیں اُن کو برابری کی بنیاد پر وسائل کی تقسیم ہو۔’
اُدھر، وفاقی حکومت کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ مجوزہ آئینی پیکج میں نہ صرف صوبائی معاملات بلکہ اقتصادی حالات کو بھی بہتر بنانے کی تجاویز شامل ہیں جِن میں بلوچستان کے عوام کو وسائل پر زیادہ اختیارات حاصل ہوں ۔
واضح رہے کہ قوم پرست جماعتیں کافی عرصے سے صوبے کے قدرتی وسائل پر مکمل کنٹرول اور زیادہ سے زیادہ خودمختاری کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

