بلوچستان کے مختلف علاقوں میں جانوروں کے لیے لگائی گئی منڈیوں میں آنے والے گاہکوں کا کہنا ہے کہ اِس سال قربانی کے جانوروں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور حکومت نے نرخ کنٹرول کرنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے۔
اُن کا کہنا تھا کہ اگر حکومت جانوروں کی ایران اور افغانستان کو سمگلنگ نہیں روک سکتی تو کم از کم ایک ضلع سے دوسرے ضلع تک اُن کی نقل و حرکت روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
کوئٹہ کے مشرقی بائی پاس پر واقع بکرا پڑی میں ایک 35سالہ گاہگ، نجیب اللہ نے خدشہ ظاہر کیا کہ مہنگائی کے باعث شاید اِس سال متوسط طبقے کے لوگ قربانی سے محروم رہ جائیں۔
اُنھوں نے بتایا کہ دنبہ کی قیمت 14سے 15ہزار روپے ہے، جب کہ بیل 80سے85ہزار روپے میں فروخت ہورہا ہے۔ اُن کے بقول، کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ساری چیزیں مہنگی ہیں۔ سارے جانور ایران اور افغانستان جارہے ہیں۔ ہم ایسے ہی بیٹھے ہوئے ہیں۔ نہیں لگتا کہ اِس سال قربانی ہوگی۔
تاہم، جانوروں کے کاروبا ر سے منسلک افراد کا کہنا ہے کہ وہ زیادہ تر بیل، اونٹ اور بھیڑ بکریاں اندرونِ سندھ اور پنجاب سے لاتے ہیں جِس کے باعث چارے اور کرائے کی مد میں اُن پر اچھا خاصا خرچہ اُٹھتا ہے۔
جانوروں کے ایک کاروباری کے بقول، یہ لوگ ہم سے آٹھ ہزار روپے کا دنبہ نہیں خریدتے، جب کہ باہر والے لوگ 200سے300دنبے خرید کر 10تا12ہزار روپے فی دنبہ دیتے ہیں۔ ہم نے جانوروں پر پیسا لگایا ہوا ہے، ہمارا تھوڑا منافع ہے۔
دوسری جانب، پہلے کی نسبت اِس سال بکرا پڑی میں قربانی کے جانوروں کی خریداری کا ہجوم بھی کافی کم دیکھنے میں آرہا ہے، جِس کی ایک وجہ سکیورٹی کی خراب صورتِ حال بھی بیان کی جاتی ہے۔
حکام نے بتایا ہے کہ عیدِ قرباں کے موقع پر امن و امان کو برقرار رکھنے اور بازاروں میں سکیورٹی کے خاطر خواہ اقدامات کیے گئے ہیں۔

