انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہاہےکہ ایسی اطلاعات موجود ہیں جن کے مطابق بنگلہ دیش میں اس سال کے شروع میں ہونے والی فوجی بغاوت کے مقدمے میں زیرِحراست افرادکو تشدد کانشانہ بنایا گیا تھا۔
لندن میں قائم انسانی حقوق کی اس تنظیم نے اپنے جمعرات کے روز جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا ہے کہ فوجی بغاوت کے سلسلے میں حراست میں لیے جانے والے سینکڑوں افراد کو بجلی کے جھٹکوں اور ناخنوں کے نیچے کیلیں ٹھونکنے جیسے واقعات سمیت تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔
ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ 48 قیدی حراست کے دوران ہلاک ہوگئے تھے۔
حکام نے بنگلہ دیش رائفلز کے 18 سو سے زیادہ سرحدی محافظوں کوڈھاکہ میں واقع اپنے ہیڈکوارٹرز میں دو روزہ بغاوت میں ملوث ہونے کی بنا پر گرفتار کیا تھا۔عہدے داروں کاکہناہے کہ کم تنخواہ اور نامناسب برتاؤ کے نتیجے میں پیداہونے والے مایوسی کے جذبات اس بغاوت کا سبب بنے تھے۔
بغاوت کے دوران 70 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر فوجی افسرتھے۔ایمنسٹی نے بنگلہ دیش کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ مشتبہ افراد کو اپنے مقدموں میں انصاف ملے گا۔