بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمٰن کے قتل کے مقدمے پر سپریم کورٹ جمعرات کے دِن حتمی فیصلہ سنائے گی۔ مقدمے کی خاص نوعیت کے پیشِ نظر عدالتِ عالیہ کے اندر اور باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

ڈھاکہ سینٹرل جیل کے اندر اور باہر بھی حفاظتی انتظامات بڑھا دیے گئے ہیں۔

اِس مقدمے کے پانچ مجرمین، جنھیں ہائی کورٹ سے سزائے موت کا حکم سنایا جاچکا ہے، جیل کی کال کوٹھڑی میں بند ہیں۔ پانچوں مجرمین نے سزائے موت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ کی خصوصی پانچ رکنی بنچ میں اپیل کی تھی۔

عدالتی ذرائع کے مطابق مہینے بھر چلنے والی اُن کی اپیلوں کی سماعت کے بعد جسٹس محمد تفضل الاسلام جمعرات کی صبح اپنا فیصلہ سنانے والے ہیں۔

اٹارنی جنرل محبوب عالم نے ملک کے عوام کو چوکنا رہنے کی تلقین کی ہے کیوں کہ حکومت کو ڈر ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے قبل یا بعد میں ملک دشمن عناصر تخریبی کارروائی انجام دے سکتے ہیں۔

بنگلہ دیش کی حکمراں جماعت عوامی لیگ نے اپنے کارکنوں سے اپیل کی ہے کہ وہ عدالت کے فیصلے کے بعد جلسے جلوس نہ نکالیں اور نہ ہی سڑکوں پر خوشیاں منائیں۔

ڈھاکہ میں منگل کی شام ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں وزیرِ داخلہ سہارا خاتون اور کئی سینئر وزرا نے مجیب الرحمٰن کے قتل کے مقدمے کے فیصلے سے قبل ملک کی سلامتی کی صورتِ حال کا جائزہ لیا۔

سنہ 15 اگست1975ء کی رات ہونے والی فوجی بغاوت میں مجیب اور اُن کے کنبے کے بیشتر اراکین کو قتل کر دیا گیا تھا۔