بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمٰن کے قتل کے پانچ مجرموں کی سزائے موت کے خلاف پیش کی گئی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے جمعرات کو اُنھیں اور سات  دیگر مجرمین کو پھانسی پر لٹکانے کا فیصلہ سنا دیا۔

سنہ 2001ء میں ہائی کورٹ نے 12معزول شدہ فوجی اہل کاروں کومجیب قتل کیس میں مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔

اُن میں سے چھ مفرور ہیں،  ایک کی موت واقع ہو چکی ہے اور پانچ ڈھاکہ سینٹرل جیل میں پھانسی کی کال کوٹھڑی میں بند ہیں۔   اُن پانچ مجرمین نے سپریم کورٹ میں اپنی سزائے موت کے فیصلے کے خلاف اپیل کی تھی۔   ایک ماہ تک اُن کی اپیلوں کی سماعت کے بعد عدالت ِ عالیہ کی پانچ رکنی خصوصی بینچ نے جِس کی سربراہی جسٹس محمد تفضل الاسلام کر رہے تھے جمعرات کے دِن اپنا فیصلہ سنایا۔

جج نے اپیل خارج کرتے ہوئے،   ہائی کورٹ کے  سزائے موت کے فیصلے کو بحال رکھنے کا حکم دے دیا۔     فیصلے کے اعلان کے وقت پانچ مجرمین سید فاروق  الرحمٰن،  محی الدین احمد،   فضل الہدیٰ،    اے کے ایم محی الدین اور سلطان شہریار رشید خان کمرہٴم عدالت میں موجود نہیں تھے۔

جسٹس اسلام نے اپنے فیصلے میں یہ اہم نکتہ اجاگر کیا کہ یہ خیال غلط ہے کہ مجیب بغاوت کے دوران مارے گئے تھے۔     فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ شیخ مجیب کا منصوبہ بند طریقے سے قتل کیا گیا تھا۔

اُنھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ چونکہ 1975ء میں اِن جرائم کے ارتکاب کے وقت مجرمین عملی طور پر فوج کی سروس میں نہیں تھے اِسی لیے فوجی عدالت کی بجائے عام عدالت میں اُن پر مقدمہ چلایا جانا بالکل جائز تھا۔

مقدمے کی حساس نوعیت کی وجہ سے عدالت کے اندر اور باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ 

15اگست 1975ء کے دِن  شیخ مجیب الرحمٰن کو اُن کی اہلیہ،   تین بیٹوں،   دو بہوؤں اور درجن بھر دیگر رشتہ داروں کے ساتھ قتل کردیا گیا تھا۔  اُن کی دو بیٹیاں شیخ حسینہ اور شیخ ریحانہ اِس لیے زندہ بچ گئی تھیں کیونکہ وہ اُس وقت لندن میں تھیں۔

وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر خدا کا شکر ادا کیا اور اُنھوں نے لوگوں سے اور خصوصاً  اپنی پارٹی عوامی لیگ کے کارکنوں سے پُر سکون رہنے کی اپیل کی۔    اِس کے باوجود فیصلے کے اعلان کے ساتھ ہی عوامی لیگ کے ہزاروں کارکن ڈھاکہ کی سڑکوں پر نعرے لگاتے ہوئے نکل آئے۔ 
شیخ مجیب کے قتل کے 34برسوں کے بعد اُن کے قاتلوں کو پھانسی کی سزا سنائے جانے کے فیصلے کو اٹارنی جنرل محبوب عالم نے احد ساز قرار دیا۔