آسٹریلوی ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ بنگلہ دیش کی جن جُڑواں بچّیوں کے جُڑے ہوئے سروں کو حال ہی میں ایک طویل اور مشکل سرجری کے ذریعے الگ الگ کیا گیا ہے، وہ اب ہسپتال میں گہری نگہداشت کے یونٹ سے رُخصت ہوگئى ہیں اور اُن کی صحت بخوبی بحال ہورہی ہے۔
ملبورن میں ڈاکٹروں نے پیر کے روز کہا ہے کہ ترِشنا اور کرشنا، جنہیں دواؤں کے ذریعے کومے کی حالت میں سُلا دیا گیا تھا، اب بیدار ہوگئیں ہیں اور دونوں بہنیں ہسپتال کے ایک ہی کمرے میں ہیں۔
ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ پچھلے ہفتے25 گھنٹوں کے آپریشن کے بعد دوبرس کی یہ دونوں بچّیاں مکمل طورپر صحت پالیں گی۔ ترشنا ، جو زیادہ تنو مند ہے ، جمعرات کے روز کومےکی نیند سے بیدار ہوگئى تھی اور اُس سے اگلےدن کرشنا کی بھی آنکھ کُھل گئى۔
شروع میں ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ پیچیدہ اور مشکل آپریشن کے دوران دونوں بچیوں میں سے کسی ایک کے دماغ کو نقصان پہنچنے کا 50 فیصد تک امکان ہے۔
ان دونوں بچیوں کو اُن کی پیدائش کے چند ہی ہفتے بعد کسی امدادی کارکن نے ڈھاکے میں ایک یتیم خانے سے حاصل کیا تھا۔اُس کارکن نے ایک فلاحی تنظیم سے رابطہ قائم کیا ۔ جس نے سرجری کے لیے ان بچّیوں آسٹریلیا بھجوادیا۔

