رائے عامہ کے ایک تازہ جائزے سے ظاہر ہوا ہے کہ 70 فی صد سے زیادہ برطانوی شہری افغانستان سے برطانوی فورسز کاانخلا ایک سال کے اندر یا اس کے لگ بھگ عرصے میں چاہتے ہیں۔

رائے عامہ کا یہ جائزہ برطانوی اخبار انڈپینڈنٹ کے زیر اہتمام کرائے جانے والے اور اتوار روزشائع ہونے والے رائے عامہ کے اس جائزے میں حصہ لینے والے  لگ بھگ نصف یا 47 فی صد افراد نے یہ کہا کہ ان کا خیال ہے کہ  افغانستان کی جنگ  میں برطانیہ کی شمولیت سے ان کے ملک میں دہشت گردی کے امکان میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

افغانستان میں ہلاکتوں میں اضافے کے نتیجے میں جنگ کے لیے برطانوی حمایت میں کمی آرہی ہے۔ 2001ء میں طالبان کی زیر قیادت حکومت کے خاتمے کے بعد سے یہ سال افغانستان میں بین الاقوامی فوجیوں کے لیے مہلک ترین سال ثابت ہورہاہے۔

ہفتے کے روز افغانستان میں نیٹو فورسز کے ڈپٹی کمانڈر نے کہا طالبان شورش پسندوں کو شکست دینے کے لیے سب سے اہم چیز فورسز کے لیے مزید فوجی سازوسامان نہیں بلکہ افغانوں کے دل اور ذہن جیتنا ہے۔
 
  برطانوی لیفٹیننٹ جنرل نک پارکر نے برطانوی اخبار نیوز آف دی ورلڈ کو بتایا کہ افغانستان میں فوجی سازوسامان کی کمی کو سڑک کنارے بم کے ایک دھماکے میں ان کے بیٹے کی دونوں ٹانگوں سے محرومی کی وجہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔

برطانوی راہنماؤں پر یہ الزام عائد کیا جاچکاہے کہ وہ  طالبان کی شورش سے نمٹنے کے لیے افغانستان میں اپنے فوجیوں کو درکار مناسب سازو سامان اور ہیلی کاپٹر فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

افغانستان میں اس وقت برطانیہ کے تقریباً نوہزار فوجی موجود ہیں ۔ برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن وہاں 500  اضافی فوجی بھیجنے کا وعدہ کرچکے ہیں اور انہوں نے نیٹو کے اتحادیوں سے مزید پانچ ہزار فوجی بھیجنے کی اپیل کی ہے۔