برما کی ایک عدالت نے  حزبِ اختلاف کی لیڈر آنگ سان سُوچی کے خلاف ایک مقدمے کے فیصلے کو 11اگست تک ملتوی کردیا ہے۔

آنگ سان سوچی کے وکیل نیام وِن نے جمعے کی سماعت کے  بعد نامہ نگاروں کو بتایا کہ ججوں نے اعلان کیا ہے کہ اُنہیں  ایک “قانونی مسئلے ” کا جائزہ لینے کے لیے، جس کی انہوں نے وضاحت نہیں ، مزید وقت کی ضرورت ہے۔ وکلائے صفائى نے اپنے دلائل پیش کرتے ہوئے کہا تھاکہ اُن پر مقدمہ 1974 کے فرسودہ آئین کے تحت چلایا جارہا ہے۔

عدالت کی جانب سے جمعے کے  روز کسی فیصلے کی توقع  تھی اور اس موقعے پر رنگون کے نواح میں بدنام جیل  اِنسائین کے اطراف میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔اس دوران  جبکہ بین الاقوامی سطح پر اس مقدمے کی مذّت کی جارہی ہے اور  ملک میں کشیدگی بڑھی ہوئى ہے، برمی حکام نے آنگ سان سوچی کے  حامیوں کو خبر دار کیا تھا کہ وہ  جلسے نہ کریں ۔

امریکہ نے جمعرات کے روز  آنگ سان سوچی اور  دوسرے ایک ہزار 200 سیاسی قیدیوں کی فوری اور غیر مشروط رہائى کا مطالبہ کیا تھا۔امریکی سفارت خانے کے ایک عہدےدار کو  فیصلے کے اعلان کے وقت کمرۀ عدالت میں موجود ہونا تھا۔