چینی حکام کا کہنا ہے کہ مغربی صوبے Xinjiang میں فسادات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 140ہوگئی ہے ۔ سرکاری خبررساں ایجنسی کے مطابق صوبائی دارالحکومت Urumaqiمیں ہونے والی لڑائی میں کم ازکم 800افراد زخمی ہوئے ہیں۔مظاہرین نے سڑکوں پر آکر توڑ پھوڑ کی ہے اور کئی گاڑیوں کو بھی نذر آتش کیا ہے۔ پولیس نے تشدد میں ملوث سینکڑوں افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ Uighursکہلانے والی مسلمان آبادHanکہلانے والی چین کی اکثریتی آبادی کے مبینہ غیر منصفانہ سلوک کے خلاف مظاہرہ کررہی ہے۔ جب کہ سرکاری خبررساں ایجنسی نے اتوار کو ہونے والے فسادات کا الزام جلاوطن Uighurپر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عناصر باہر بیٹھ کر ملک میں فتنہ پھیلا رہے ہیں۔
خیال رہے کہ چین کا Xinjiang صوبے پر سخت کنٹرول ہے اور اس کا کہنا ہے کہ Uighursآبادی میں شامل بعض علیحدگی پسند تشدد کے زور پر ”مغربی ترکستان“ کے نام سے ایک آزاد ملک قائم کرنا چاہتے ہیں جب کہ Uighurکے کارکنوں کا کہنا ہے کہ چین کی حکومت مبالغہ آرائی سے کام لے رہی ہے تاکہ وہ مسلمان آبادی پر اپنا مذہبی اور ثقافتی کنٹرول قائم رکھنے کے لیے جواز فراہم کرسکے۔
واضح رہے کہ uighursاور Hanگروپوں کے درمیان کشیدگی کے باعث Guandongصوبے میں گزشتہ ماہ دو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔دونوں اطراف سے تشدد کی اس غلط افواہ کے بعد شروع ہوا کہ Uighursکارکنوں نے فیکٹری میں دو چینی لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی ہے۔

