جلا وطن ایغور سرگرم کارکن ربیعہ قدیر نے کہا ہے کہ چین اپنی نسلی ایغور اقلیت کی پکڑ دھکڑ مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے۔

امریکہ میں مقیم ربیعہ قدیر نے جمعے کے روز ٹوکیو میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ چینی حکومت دنی اکو اس بارے میں قائل کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہاں تمام نسلیں خوش و خرم زندگی گزار رہی ہیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔

ربیعہ قدیر نے کہا کہ چین کے مغربی صوبے سنکیانگ کے دارالحکومت ارمچی میں جولائی کے خون ریز بلووں کے بعد سے ہزاروں یغور باشندے غائب ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چینی حکومت جولائی سے 15 سو سے زیادہ ایغور ویب سائٹس بند اور انہیں چلانے والے افراد کو گرفتار کرچکی ہے۔ قدیر نے حکام پر الزام لگایا کہ وہ نوعمر ایغور خواتین کو چین بھر کی فیکٹریوں، ہوٹلوں اور شراب خانوں میں کام کرنے پر مجبور کررہے ہیں۔

قدیر نے کہا کہ وہ جاپان کی ایغور کمیونٹی کے ساتھ رابطوں میں اضافے اور چین میں ایغورباشندوں کی حمایت بڑھانے کے لیے جاپان کے دورے پر آئی ہیں۔

بیجنگ ربیعہ قدیر پر نسلی تشدد بھڑکانے کا الزام لگاتا ہے جس سے وہ انکار کرتی ہیں۔