بہت کم ایسی شخصیات ہوتی ہیں کامیابیاں جِن کے قدم چومنے کے لیےبےقرار ہوتی ہیں۔اِسی طرح کی خوش قسمت شخصیتوں میں ماسٹر بلاسٹر سچن تنڈولکر کا شمار ہوتاہے۔
گذشتہ دو ہفتوں کے دوران لگاتار کئی کامیابیو ں نے اُنھیں دنیا بھر میں منفرد مقام عطا کردیاہے۔ بین الاقوامی کرکٹ میں 20 برس کی تکمیل کے بعد ون ڈے کرکٹ میں 17 ہزار رن سکور کرنے کے ریکارڈ کی خوشیوں سے باہر بھی نہ آ سکے تھے کہ ایک نیا عالمی ریکارڈ اُن کے ساتھ جُڑ گیا۔
سچن کرکٹ کیرئر کے 21 ویں برس میں قدم رکھتے ہی دنیا کے پہلے کھلاڑی بن گئے جِس نے مجموعی طور پر 30 ہزار رنز بنائے۔
اِس میں ون ڈے اور ٹیسٹ میچوں کا سکور شامل نہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ ریکارڈ ایسا ہے کہ شائد ہی مستقبل قریب میں کوئی کھلاڑی اِسے توڑ پائے گا۔
احمدآباد میں سری لنکا کے ساتھ پہلے ٹیسٹ کی دوسری اننگ سے قبل سچن کو 30 ہزار رنز کی تکمیل کے لئے 34 رن کی ضرورت تھی۔ سچن نے دوسری اننگ میں 211 گیندوں پر11 چوکوں کی مدد سے 100 رنز بنائے۔ اِس طرح ٹیسٹ کرکٹ میں اُن کی سنچریز کی تعداد بڑھ کر 43 ہوگئی۔
ون ڈے کرکٹ میں وہ 45 سنچریز کا ریکارڈ رکھتے ہیں۔مجموعی طور پر اُن کے سنچریوں کی تعداد 88 تک پہنچ گئی۔ 30 ہزار رنز میں ون ڈے کرکٹ کے 17178 رنز اور ٹیسٹ کرکٹ کے 12822 رنز شامل ہیں۔مسلسل ریکارڈز بنانے پر دنیا بھر سے اُنھیں مبارکبادی کے پیغامات وصول ہورہے ہیں۔

