مراکش کے قالین اپنی خوبصورتی کی بنا پر دنیا بھر میں مشہور ہیں اور مہنگے داموں فروخت ہوتے ہیں۔ لیکن ان سے حاصل ہونے والی رقم کا بہت کم حصہ ان خواتین تک پہنچتا ہے جو مہینوں قالین بننے میں صرف کرتی ہیں۔
مراکش کے ایک علاقے Tazenakh کے دیہاتی، مخصوص انداز کے خوبصورت غالیچے تیار کرنے میں شہرت رکھتے ہیں۔ لیکن دس کلو خام اون کات کر ایک غالیچہ بنانا، بربرنسل کی ان خواتین کے لیے کوئی آرٹ یا فن کی بات نہیں بلکہ گزر اوقات کا ایک ذریعہ ہے۔
ایک قالین فاف خاتون فاطمہ حاسی کہتی ہیں کہ ماضی میں ان علاقوں کے خاندانوں کا ذریعہ معاش اون اس کی کتائی اور بنائی رہا ہے۔
لیکن اب یہ ایک بہت مشکل کام بن چکاہے۔ قالین باف کئی ماہ اون کی تیاری اورپھر کئی مہینے قالین بننے پر لگاتے ہیں۔ اس وقت وہ ایک مخصوص آرڈرپر کام کررہے ہیں اور اس سے وہ 50 ڈالر کمائیں گے۔ اُن میں سے ہر ایک کو کل ملا کرتقریباً 25 سینٹ یومیہ ملیں گے۔ یہ کوئی زیادہ رقم نہیں ہے لیکن یہ اس رقم سے زیادہ ہے جو انہیں کسی مقامی مارکیٹ سے مل سکتی ہے۔
ایک قالین باف راقیہ کا کہنا ہے کہ بازار میں انہیں معقول قیمت نہیں ملتی۔ اُس سے تو اون کا قیمت بھی پوری نہیں ہوتی۔
ان غالیچوں کے خریدار مڈل مین ہیں۔ وہ دیہاتیوں سے غالیچے خریدتے ہیں اور انہیں مراکش کی دکانوں اور دوسرے سیاحتی مراکز پر لے جاکر بیچ دیتے ہیں۔ مراکش کی قالینوں کی ان دکانوں میں غالیچے سینکڑوں ڈالرمیں فروخت ہوتے ہیں۔ لیکن انہیں زیادہ تر دراز د یہاتوں کی غریب خواتین تیارکرتی ہیں، جو مراکشی عربی زبان تک نہیں بول سکتیں۔ ان کے لیے یہ مارکٹیں بہت دور ہیں۔
خدیجہ، انزال کی قالین بننے والی خواتین کی ایک ایسوی ایشن کی صدر ہیں۔ اس پہاڑی گاؤں میں مڈل مین کا کردار ختم کرنے کے لیے88 خواتین متحد ہوچکی ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ اب کسی ایجنٹ کو قالین بیچنے کی بجائے آپ اسے ایسوسی ایشن کے دفتر میں لائیں اور اسے خود فروخت کریں
ایک بڑا قالین بننے میں تقریباً ایک مہینہ لگتا ہے اور وہ لگ بھگ 150 ڈالر میں فروخت ہوتا ہے۔ اور اس رقم میں سےقالین بننے والے کے حصے میں کیا آتا ہے۔ ۔ صرف 20 ڈالر۔
خدیجہ کہتی ہیں کہ اب یہ پوری رقم مجھے ملتی ہے۔ قالین بننے والی عورتیں رقم حاصل کرتی ہے اور وہ اس سے اپنی ضرورت کی چیزیں خرید سکتی ہے۔
اب قالین باف ہر قالین پر زیادہ پیسے کمارہے ہیں لیکن ان کے بکنے والے قالینوں کی تعداد زیادہ نہیں ہے۔ دو سال میں، جب سے ایسوسی ایشن قائم ہوئی ہے، تنظیم کی خزانچی زہرہ آیت علی نے صرف چارغالیچے فروخت کیے ہیں اور کل صرف تین سو ڈالر میں۔ وہ کہتی ہیں کہ ایک قالین کے بعد دوسرا قالین بیچنے کےلیے آپ کو کافی عرصہ انتظار کرنا پڑتا ہے۔
قالین بافوں کو اتنی کم رقم ملتی ہے کہ اب نوجوان عورتیں یہ ہنر سیکھنے سے گریز کررہی ہیں۔ راقیہ کا کہنا ہے کہ میری پانچ بیٹیاں ہیں۔ ان میں سے صرف ایک کو قالین بننا آتا ہے۔
فاطمہ حاسی کے بھی یہی خیالات ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہماری بیٹیاں کہتی ہیں کہ ہم نے قالین بنتے بنتے اپنی صحت تباہ کرلی ہے اور ہمیں اس سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ وہ نئے ہنر سیکھنا چاہتی ہیں۔ وہ قالین بافی بالکل نہیں سیکھنا چاہتیں۔
اور جب کوئی بچہ صدیوں سے یہاں موجود کوئی فن سیکھنے سے انکار کرتا ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ وہ فن اب لمحہ بہ لمحہ ختم ہورہاہے۔

