طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کے باعث ہر سال پاکستان میں 89 ہزار مریض فوت ہوجاتے ہیں، جس میں سے 36ہزار مرد اور 52 ہزار خواتین ہوتی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ٕخاموش قاتل کے نام سے جانا جانے والا یہ مرض موروثی تو ہے لیکن اِس میں تیزی سے اضافے کی وجہ جدید طرزِ زندگی، غذائی بے اعتدالی، ورزش کے اصولوں کا فقدان، علاج میں غفلت اور مرض کے خلاف بہتر شعور کا اجاگر نہ ہونا ہے۔

تحقیق سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جس شخص کو یہ مرض ہو عام طور پر کئی برس تک کوئی علامات سامنے نہیں آتیں۔ جب کہ مرض کی تشخیص کے بعد بھی بہت عرصے تک مریض کو بظاہر کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہوتا۔ لیکن ادویات سے بر وقت شوگر کو کنٹرول نہ کرنے اور غذائی بے اعتدالی کے نتیجے میں ذیابیطس کے مریض اِس بیماری کی خطرناک بیچیدگیوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔

اِس مرض کے خلاف شعور اجاگر کرنے، بیماری کی روک تھام اور شوگر کے مریضوں کو بیماری کے نقصانات بتانے کے لیے ساری دنیا کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی ہر سال 14نومبر کو ذیابیطس کا عالمی دِن منایا جاتا ہے۔

اِس حوالے سے ذیابیطس کے قومی تحقیقی ادارے کے ڈائریکٹر پروفیسر زمان شیخ نے بتایا کہ ملک بھر کے شہری اور دیہی علاقوں میں مرض تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ دس فی صد قومی آبادی ذیابیطس میں مبتلا ہے اور اتنے ہی لوگ اِس مرض کے خطرات سے دوچار ہیں۔

طبی ماہرین کہتے ہیں کہ ایک صحت مند آدمی کے لیے ضروری ہے کہ چھ مارہ کے بعد خون میں شکر کی سطح کی جانچ کروائے۔

ذیابیطس کے خلاف عالمی دِن کے موقع پر طبی ماہرین نے زوردیا ہے کہ مرض تشخیص ہوجانے پر شوگر کنٹرول کرنے کی ادویات اور معالج کی ہدایت میں ہرگز غفلت نہ برتی جائے۔

تحقیقی ماہرین کہتے ہیں کہ گردوں کے ناکارہ ہونے، اندھے پن اور ہاتھ پیر کاٹے جانے کی پہلی وجہ شوگر کے مرض کی پیچیدگیاں ہیں۔

انٹرنیشنل ذیابیطس فیڈریشن کے مطابق اِس وقت پاکستان ذیابیطس سے متاثرہ دنیا کا ساتواں بڑا ملک بن چکا ہے جب کہ عالمی ادارہٴ صحت نے خبردار کیا ہے کہ آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ سنہ 2020ء تک دو کروڑ 40لاکھ پاکستانی ذیابیطس کی بیماری میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔