جمعے کی صبح ہونے والے مبینہ امریکی جاسوس طیارے کے میزائل حملے کا نشانہ شمالی وزیرستان کے دوسرے بڑے قصبے میر علی کے نواحی علاقے میچ خیل میں ایک گھر تھا۔ یہ گھر گذشتہ چند سالوں سے مبینہ طور پر عسکریت پسندوں کے زیرِ استعمال تھا۔
ہلاک و زخمی افراد عسکریت پسند بتائے جاتے ہیں۔ تاہم فوری طور پر اُن کی شناخت نہیں ہوسکی۔
ایک روز قبل شمالی وزیرستان کے مرکزی قصبے میراں شاہ کے نزدیک ہمزونی گاؤں میں عسکریت پسندوں کے ایک مرکز پر اِسی قسم کے میزائل حملے میں چار افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے تھے۔
ادھر ایک روز قبل پشاور میں ہونے والے خودکش حملے پر احتجاجاً وکلا برادری نے عدالتوں کا بائیکاٹ اور احتجاجی جلسے منعقد کیے۔
اِس خود کش حملے میں عام لوگوں اور پولیس اہل کاروں سمیت متعدد وکلا بھی ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔ خود کش حملے میں ہونے والی تحقیقات میں ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
دوسری طرف وزیرِ اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے صوبے میں خودکش حملوں میں ہلاک ہونے والے پولیس اہل کاروں کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے اعلان کیا کہ دہشت گردی کا نشانہ بننے والے پولیس اہل کاروں کے لواحقین کو 15لاکھ روپے کی بجائے 30لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے گا۔
خیال رہے کہ رواں مہینے میں پشاور اور نواحی علاقوں میں دہشت گردی کی تقریباً نو واقعات میں ایک سوسے زیادہ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوچکے ہیں۔

