صوبہٴ پنجاب میں عید الاضحیٰ کا جوش و خروش سیکیورٹی خدشات سے متاثر ضرور ہوا مگر اِس تہوار کا روایتی رنگ بھی قائم رہا۔

لاہور سمیت پنجاب بھر میں ہفتے کی صبح پانچ ہزار سے زیادہ  مساجد اور کھلے مقامات پر عید الضحیٰ کی نماز کے اجتماعات ہوئے،  حالانکہ وزارتِ داخلہ نے ہدایات جاری کر رکھی تھیں کہ عید کی نماز کھلے مقامات کی بجائے چہار دیواری میں پڑھائی جائے۔

حکومتِ پنجاب  کے مطابق صوبے بھر میں ایک لاکھ سے زیادہ  پولیس کی نفری سیکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات کی گئی تھی۔ کھلے مقامات پر پولیس کے ساتھ مقامی لوگ بھی عید گاہوں کے دروازوں پر تعینات تھے تاکہ وہ آبادی کو پہچان سکیں اور کوئی مشتبہ شخص اندر داخل نہ ہو سکے۔

سیکیورٹی کے اِس ماحول کےساتھ ساتھ مہنگائی نے بھی عید کی رونقوں کو متاثر کیا لیکن عید سے ایک روز پہلے قربانی کے جانوروں کی قیمتیں مبینہ طور پر 20سے 25فی صد تک کم ہوگئیں، کیونکہ بیوپاریوں کو یقین ہوگیا تھا کہ مہنگے داموں اب اُن کے جانور فروخت نہیں ہو سکیں گے۔

سیرو تفریح کے مقامات پر بھی رش رہا۔  لاہور فلم نگری ہے مگر اس کی حالت ناگفتہ بہہ ہے۔ عید پر اگرچہ چار نئی پاکستانی فلمیں رلیز ہوئی ہیں تاہم  کُل پاکستان سنیما مالکان کی  تنظیم کے صدر قیصر ثنا اللہ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ یہ چار پانچ برسوں سے زیرِ تکمیل فلمیں تھیں ،اور اُن کے بقول،  اُن میں سے کوئی فلم بھی فیملی فلم نہیں ہے، سب ہلہ گلہ فلمیں ہیں۔