پاکستانی ماہرین نے ماحولیات کی مسلسل تنزلی پرگہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ملک کو اس کی مد میں روزانہ ایک ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑھ رہا ہے۔
وفاقی سیکرٹری ماحولیا ت کامران لاشاری نے وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں عالمی بینک کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مختلف ماحولیاتی مسائل کے انسانی زندگیوں پر مضر اثرات کا اگر اقتصادی پہلوؤں سے جائزہ لیا جائے تو اس کے نقصان کا سالانہ تخمینہ 365 ارب روپے ہے۔ ان کے بقول اس کی ایک مثا ل گندہ پانی ہے جس کے پینے سے بڑی تعداد میں لوگ ہیضہ اور ہیپٹائٹس جیسے خطرناک امراض میں مبتلا ہوتے ہیں جب کہ آبی آلودگی بڑی تعداد میں بچوں کی موت کا باعث بنتی ہے۔
وفاقی سیکرٹری کے مطابق مسئلہ صرف پانی کی آلودگی کا ہی نہیں بلکہ اس کی قلت کا بھی ہے اور آگے چل کر ملک کو توانائی سے بھی سنگین پانی کے بحران کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اعداد وشمار کا حوالہ دیتے ہوئے کامران لاشاری نے بتایا کہ 1950ء میں پانی کی دستیابی پانچ ہزار کیوبک میٹر فی کس سالانہ تھی جو بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ کم ہو کر اب صرف گیارہ سو کیوبک میٹر فی کس رہ گئی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ عالمی معیار کے مطابق جس علاقے میں ایک ہزار کیوبک میٹر فی کس پانی کی دستیابی ہو وہ خشک سالی سے متاثرہ قرار دیا جاتا ہے۔ اس سوال پر کہ پاکستان پانی کے سنگین بحران سے کتنا دور ہے سیکرٹری ماحولیات نے کہا کہ بڑے شہروں میں پانی کی موجودہ قلت سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بحران پہلے ہی دروازے پر دستک دے رہا ہے۔
تاہم انہوں نے کہا کہ حکومت آبی اور ماحولیاتی مسائل کی سنگینی سے پوری طرح آگاہ ہے اور اس سلسلے میں نئے ڈیموں کی تعمیر اور جنگلات کے پھیلاؤ کو موجودہ چار فیصد سے بڑھانے سمیت مختلف منصوبوں پر کام کررہی ہے۔
گجرات یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور ماہر ماحولیات پروفیسر نظام الدین کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی میں ایک بڑا عنصر گرین ہاؤس گیسز کا ہے جس کی پیداوار میں 90 فیصد عمل دخل خود انسانی سرگرمیوں کا ہے۔ انہوں نے بتا یا کہ صنعتی یونٹوں اور گاڑیوں سے دھوئیں کا اخراج اور زرعی سرگرمیوں کے دوران پانی سے نکلنے والی بھاپ فضا میں شامل ہو کر ماحول کو متاثر کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گرین ہاؤس گیسز کی روک تھام کے لیے ضروری ہے کہ طرز زندگی میں مجموعی تبدیلی لائی جائے اور انسانی آبادی اپنے ارد گرد کے ماحول اور رہن سہن کو جس قدر ہو سکے صاف رکھے۔


