امریکہ کے  اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر کی جانب سے   11 ستمبر 2001ء کی دہشت گردی کے مشتبہ ملزموں پر نیویارک کی سویلین عدالت میں  مقدمہ چلائے جانے کے اعلان نے  واشنگٹن  کے سیاسی منظر نامے پر  ہلچل پیدا کر دی ہے اور دوسری طرف امریکی ریاست الینوئے  کو گوانٹا نامو کے قیدیوں کی اگلی منزل بنانے یا نہ بنانے  کے بارے میں میڈیا میں بحث  جاری ہے۔ لیکن ایک برطانوی صحافی اینڈی ورتھ نگٹن کا کہنا ہے کہ صدر اوباما کے وعدے کے باوجود گوانٹا نامو کی جیل 22جنوری 2010ء تک بند نہیں  ہوسکتی۔ 

اقتدار سنبھالے ابھی انہیں صرف دس ماہ ہوئے ہیں مگر چیلنجز کی کوئی کمی نہیں۔ جہاں اندرون ملک  صحت عامہ کی اصلاحات کے مخالفین  اپنی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں اور معیشت کی بحالی کی راہ میں  10.2فیصد کا ہندسہ عبور کرتی بے روزگاری رکاوٹیں ڈال  رہی ہے۔ وہاں پاک افغان خطے میں لڑی جانے والی جنگ سے متعلق ممکنہ فیصلےبھی واشنگٹن کے پاور کاریڈروزمیں بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ افغانستان میں مزید فوج بھیجی جائے یا نہیں سے لے کر پاکستان کو دی جانے والی امداد کے شفاف استعمال کو یقینی بنانے  کے طریقوں پر غور کے ساتھ ان دنوں امریکہ میں ایک بحث دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔  موضوع  ہےگوانٹا نامو کے قیدیوں کی قسمت کا فیصلہ،  جسے باراک اوباما اس سال مئی میں بش دور کا  MESS قرار دے چکے ہیں۔

صدر اوباما اس وقت ایشیا کو امریکہ کے ساتھ مل کر چلنے کی ترغیب دے رہے ہیں اور یہاں واشنگٹن میں ان کے اٹارنی جنرل نے 11ستمبر کے حملوں کے پانچ ملزمان کے مقدمے  نیویارک میں  چلانے کا اعلان کر دیا ہے۔ 

امریکی اٹارنی جنرل کہتے ہیں کہ انہوں نے محکمہ دفاع کو یمن میں  2000ء میں امریکی جنگی جہاز یو ایس ایس کول میں دھماکوں کے الزام میں قید پانچ ملزمان پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلانے کی ہدایت کی ہے۔ یہ دس کے دس ملزمان اس وقت گوانتا نامو  میں قید دو سو سے زیادہ   افراد میں شامل ہیں،  جن کے مقدمات اب تک امریکی نظام انصاف کے کٹہرے میں نہیں لائے جا سکے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ لوگ اپنے مقدمات کی شنوائی چاہتے ہیں یہ چاہتے ہیں کہ  کوئی غیر جانبداری سے سچائی جانچنے کی کوشش کرے کیونکہ اب تک انہیں کوئی جواب نہیں مل سکا، ان کے بارے میں اب تک دنیا صرف وہی جانتی ہے جو امریکی حکومت کہہ رہی ہے یا جو وہ خود کہہ رہے ہیں۔ کوئی غیر جانبداری سے فیصلہ کرنے والا نہیں ہے، یہ کام صرف عدالت کر سکتی ہے اور ایک جج ہی تمام ثبوت دیکھ کر غیر جانبداری سے فیصلہ سنا سکتا ہے۔

ایک برطانوی صحافی اینڈی ورتھ نگٹن،  گوانٹا نامو کے قیدیوں کے مقدمات انصاف کی عدالتوں تک پہنچانے کے لئے سرگرم ہیں۔   اپنی کتاب گوانٹا نامو فائلز اور اپنی ڈاکیو مینٹری سٹوریز فرام گوانٹا نامو کے نام سے انہوں نے پینٹا گون کی جانب سے جاری کئے گئے ان آٹھ ہزار صفحات کے میموز پر اپنی تحقیق کودستاویزی شکل  میں مرتب کیا ہے جو گوانٹا نامو کے قیدیوں سے تفتیش کے لئے استعمال کئے گئے طریقوں پر مبنی ہےاور جس کے لئے گوانٹا نامو سے رہائی پانے والے قیدیوں سے انٹرویوز بھی کئے گئے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ میری  معلومات کا اصل ماخذ تو  پینٹا گون ہی تھا۔ ویسے تو یہ دستاویز عوامی سطح پر جاری کر دی گئی ہیں لیکن چونکہ یہ آٹھ ہزار صفحات ہیں  اس لئے ان کی تفصیلات کو سمجھنا آسان نہیں۔  ان میموز میں ہر قیدی کا ذکر اس کے نام سے کیا گیا ہے جبکہ قیدیوں کو نمبرز جاری کئے جاتے ہیں تو ان ناموں اور نمبروں کو میچ کرنا ایک پیچیدہ پزل حل کرنے جیسا تھا۔ 

اینڈی ورتھ نگٹن کا کہنا ہے کہ اب تک گوانٹا نامو میں قید 38 افراد کے مقدمے ہی امریکی عدالتوں میں پہنچ پائے جن میں سے 30 قیدیوں کے خلاف مقدمے عدم ثبوت کی بنا پر خارج کئے جا چکے ہیں۔   مگر اینڈی کا کہنا ہے کہ قیدیوں کی رہائی  ان کی قومیتوں کی بنا پریا  ان کے ملکوں کی جانب سے انہیں واپس لینے پر رضامندی اور کچھ شراط کے ساتھ عمل میں آئی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ گوانٹا نامو سے آزاد ی پانے والے زیادہ تر قیدی سیاسی بنیاد پر آزاد کئے گئے، یاتو وہ برطانوی تھے اور برطانیہ کی حکومت نے کہا کہ ہم انہیں واپس لینے کو تیار ہیں۔ کچھ اس لئے رہا ہوئے کہ انہیں گوانٹا نامو میں ہی ٹریبیونل کے سامنے پیش کیا گیا تھا مگر وہ طریقہ جس میں امریکی نظام انصاف کو شامل کیا جاتا  ہے اور جس کے تحت پچھلے سال سے کچھ کیسز امریکی ججز کے سامنے  لائے جا رہے ہیں اور زیادہ تر کیسز میں ایسا ہوا کہ جج  اپنے سامنے ان قیدیوں کے جرم کے لئے پیش کئے گئے ثبوت اور شہادتوں کے معیار پر سخت حیران اور ناراض  ہوئے۔ گورنمنٹ نے چھوٹی چھوٹی شہادتوں کو ملا کر ایسی  عجیب  موزیک بنائی تھی کہ ججز کو کہنا پڑا  کہ  یہ کوئی موزیک نہیں  بلکہ اس  تصویر میں سوراخ ہی سوراخ ہیں۔

ڈیوڈ سینامن ایک امریکی لا فرم سے منسلک ہیں جو گوانٹا نامو میں بند کویتی قیدیوں  کا مقدمہ لڑ رہی ہے۔  وہ کہتے ہیں کہ  گوانٹا نامو میں بند چھ میں سے تین کویتی قیدی آزاد ہو چکے ہیں مگر باقی تین کا معاملہ ابھی مقدمات تک نہیں پہنچا۔ ان کا کہنا ہے کہ گوانٹا نامو کوجنوری 2010ء تک  بند کرنے کی باتیں ابھی حقیقت سے  بہت دور ہیں۔

سینامن کہتے ہیں کہ گوانٹا نامو جنوری 2010 ء میں  بند نہیں ہوگا۔ سب سے پہلے تو امریکی کانگریس نے  یہ کہہ دیا  کہ گوانٹا نامو میں قید کسی  شخص کو امریکہ نہیں لایا جائےگا، انہیں بھی نہیں جنہیں بے گناہ قرار دیا جا چکا ہے، جو دشمن جنگجو  کے الزام سے بری ہو چکے ہیں، اس لئے اوباما انتظامیہ کے لئے انہیں کسی اور جگہ منتقل کرنا بھی مشکل ہو جائے گا کیونکہ جب امریکہ بے گناہ افراد کو خود اپنے ملک میں نہیں آنے دے گا تو دوسرے ملک  بھی کہیں گے کہ ہم کیوں ایسا کریں۔

ان کا کہنا ہے کہ مجھے ڈر ہے کہ یہ لوگ 22 جنوری 2010کو اور اس کے ایک سال بعد بھی اسی جیل میں ہونگے۔ اور کوئی انہیں لینے کو تیار نہیں ہوگا۔ اس لئے میرے خیال میں امریکی حکومت کوخود آگے بڑھ کر ان لوگوں کے لئے امریکہ کے اندر نئے گھر تلاش کرنے ہونگے۔ 

اور کیا  گیارہ ستمبر کے ملزمان کو نیو یارک لاکر مقدمہ چلا نے کا اعلان اسی جانب ایک قدم ہے ؟ نیویارک کے رہنے والے سبھی  لوگ اس سے اتفاق نہیں کرتے۔

اور کیا ان قیدیوں کی اگلی منزل  شکاگو سے 220کلو میٹر دوردریائے مسی سپی کے قریب  واقع انتہائی سیکیورٹی والی تقریبا خالی تھامسن جیل ہو سکتی ہے؟ ریاست ایل نوائے کے ڈیمو کریٹک  گورنر گوانٹا نامو کے   240 قیدیوں کو اپنی ریاست کی جیل میں منتقل کرنے کی حمایت کر رہے ہیں، کیونکہ اس سے کئی ملین ڈالر کی امداد اور کم از کم تین ہزار نئی ملازمتیں پیدا ہونگی۔ مگر اس تجویز کے مخالفین کی یہاں بھی کوئی کمی نہیں۔

بعض تجزیہ کاروں  کا یہ بھی کہنا ہے کہ گیارہ ستمبر کے ملزمان کا مقدمہ امریکی عدالت تک پہنچنے میں ابھی مزید دو سال لگ سکتے ہیں اور اگر یہ مقدمہ دو ہزار بارہ تک طول کھینچ گیا تو امریکہ کے اگلے صدارتی انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔