کیلیفورنیا کے شہر اروائین کی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے لگ بھگ 27 ہزار طلبہ اور طالبات میں سے تین فی صد دوسرے ملکوں سے یہاں تعلیم حاصل کرنے آئے ہیں۔ امریکہ بھر میں عام طور پر کالجوں اور یونیورسٹیز کے پاس ملکی طالب علموں کے مقابلے میں غیر ملکی طلبہ کو سکالرشپ یا مالی امداد فراہم کرنے کے ذرائع محدود ہوتے ہیں۔
یو سی آئی میں بھی صورت حال کوئی مختلف نہیں۔ کتابوں، رہائش اور سکول کی فیس ملا کر غیر ملکی طلبہ کو سالانہ 29 ہزار ڈالر خرچ کرنے پڑ سکتے ہیں۔ غیر ملکی طالب علم سکالرشپ کے ذریعے کس قسم کی امداد کی توقع کر سکتے ہیں؟ یونیورسٹی کے فنانشل ایڈ اینڈ سکالرشپ ڈیوزن کے ڈائریکٹر کرسٹوفر شلٹز کہتے ہیں کہ ایڈمشن کے وقت غیر ملکی سٹوڈنٹس کو بھی میرٹ پر سکالرشپ پانے کا موقع ملتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ سکالرشپ کےلیے اسٹوڈنٹس کو منتخب کرنے کا مرحلہ ایڈمشن کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ درخواست دینے والوں میں پڑھائی میں اچھا کون ہے، اور اس بنیاد پر سب سے ذہین طلبہ کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ یہ سکالرشپ طلبہ کو داخلے کے مراحل کے شروع میں ہی مل جاتا ہے، اور انہیں جلد باخبر بھی کر دیا جاتا ہے۔
کرس شلٹز نے بتایا کہ ان کا ڈپارٹمنٹ یونیورسٹی وائیڈ ہانرز پروگرام کے ساتھ مل کر بھی کام کرتا ہے، اور اس پروگرام کے تحت گزشتہ سال کے دوران طلبہ کو 2500 سے لے کر 9000 ڈالر تک کی مالی مدد فراہم کی گئی۔ موجودہ سال میں یہ سکالرشپ حاصل کرنے والے سٹوڈنٹس کی تعداد 300 کے لگ بھگ ہے۔
ان کا کہنا ہے فریش مین کلاس میں داخلہ لینے والے سٹوڈنٹس کو یہ سکالرشپ 4 سال تک کے لیے مل سکتا ہے، جبکہ کسی دوسرے سکول سے ٹرانسفر کرنے والے سٹوڈنٹس کو یہ سکالرشپ 2 سال کے لیے دیا جاتاہے۔ اس سکالرشپ کی ایک اچھی بات یہ بھی ہے کہ اسے سمر سمسٹر میں استعمال کیا جا سکتا ہےجس کے لیے انہیں ایک ہزار ڈالر تک کی رقم یقینی طورپر فراہم ہوتی ہے۔
طالب علموں کو فنانشل ایڈ کے ذرائع کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے لے یونیورسٹی نے سکالرشپ ریسرچ سینٹر بھی قائم کیا ہے جہاں مختلف پروگراموں کی تفصیلات کتابوں کی شکل میں موجود ہیں۔ چاو لو سکالرشپس ڈویژن کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ہم نے غیر امریکی اسٹوڈنٹس کے لیے بھی ایک بائنڈر میں معلومات جمع کی ہے، تاکہ وہ یہ جان سکیں کہ ان کو کس قسم کی سکالرشپس مل سکتی ہیں، اور ان کے لیےدرخواست دینے کا طریقہ کیا ہے۔
اس کے علاوہ اپلائی کرنے والوں کو پرائیویٹ ذرائع سے بھی کچھ سکالرشپس دی جاتی ہیں۔ لیکن یونیورسٹی آف کیلیفورنیا اروائین میں انڈرگریجویٹ طالب علموں کے لیے ریسرچ کا ایک انوکھا پروگرام بھی موجود ہے، جس سے کسی بھی شعبے سے تعلق رکھنے والے امریکی یا غیر امریکی طلبہ مستفید ہو سکتے ہیں۔
سید شوکیر یونیورسٹی کے انڈرگریجویٹ ریسرچ آپرٹیونٹیز پروگرام کے ڈائریکٹر ہیں۔ ان کا کہنا ہےکہ ہم ہر سال دوہزارسے زیادہ اسٹوڈنٹس کے ساتھ کام کرتے ہیں، جن میں 800 سے 850 تک کو اس پروگرام کے تحت فنڈنگ دی جاتی ہے۔
گو اروائین کی یہ یونیورسٹی ریسرچ پر زور دیتی ہے، لیکن بہت سی دوسری یونیورسٹیوں کی نسبت یہاں انڈرگریجویٹ ریسرچ کی زیادہ حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ سیدشوکیر کہتے ہیں کہ انفرادی پروجیکٹ کے لیے طالب علم ایک ہزار ڈالر تک کا مطالبہ کر سکتے ہیں، جبکہ گروپ پروجیکٹ کے لیے انہیں ڈھائی ہزار ڈالر تک مل سکتے ہیں۔
موجودہ سال میں طالب علموں کو ریسرچ کےلیے یونیورسٹی کی جانب سے کل 2 لاکھ 10 ہزار ڈالردیے جا چکے ہیں اور اگلے سال کی گرانٹس کے لیے درخواستوں کی وصولی کا سلسلہ جاری ہے۔
یو سی آئی کے مختلف پروگراموں کے بارے میں مزید معلومات www.uci.edu پر ان کی ویب سائٹ سے حاصل کی جا سکتی ہے۔

