امریکی فوج فوجی اڈے فورٹ ہڈ میں فائرنگ کے واقعے کے بعد صدمے سے نمٹنے کے لیے نفسیاتی مدد دینے کے لیے درجنوں ماہرین کو ٹیکسس بھیج رہی ہے۔

جمعرات کے روز اس فوجی چھاؤنی میں فائرنگ کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک اور 30 زخمی ہو گئے تھے۔

حکام نے کہا ہے کہ مبینہ حملہ آور میجر نضال مالک حسن نے ایک عمارت کے اندر دو پستولوں سے فوجی اور سویلین افراد پر فائر کھول دیا۔ ایک خاتون پولیس افسر نے اسے روکنے کے لیے نضال پر چار بار گولی چلائی۔

فوج نے فائرنگ کے ممکنہ محرکات پر بات کرنے سے انکار کیا ہے تاہم امریکہ صدر براک اوباما اور دوسرے اعلیٰ حکام نے تفتیش مکمل ہونے سے پہلے جلدبازی سے کسی نتیجے تک پہنچنے کے خلاف خبردار کیا ہے۔

صدر اوباما نے اپنے ہفتہ وار ریڈیو خطاب میں اس واقعے کو افسوس ناک اور قابلِ مذمت قراد یا اور فوجیوں کے جذبے کی تعریف کی۔